کافر کون؟ — Page 369
" سکج ہو گئے دل تمہارے“ 369 اس آیت کا ترجمہ حافظ نذیر احمد صاحب یہ فرماتے ہیں: سو پیغمبر کی دونوں بیبیو اس حرکت سے خدا کی جناب میں تو بہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے کیونکہ تم دونوں نے کجرائی اختیار کی ہے۔اور اگر پیغمبر کے خلاف سازشیں کرو گی تو اس کا حامی و مددگار خدا ہے۔جبکہ جماعت اسلامی کے بانی جناب مودودی صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواتین رسول کریم صلی یا سیستم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں۔بعض دوسرے لوگ ہمارے اس ترجمہ کو سوء ادب خیال کرتے ہیں۔تفهیم القرآن زیر آیت (هذا) تراجم اور اس حوالے سے علماء کرام کی بصیرت اور روشن مزاج تیز نگاہوں“ کی تفصیل بہت لمبی ہے مختصر طور پر خلاصہ میں ذکر کیا ہے جبکہ خود حاصل وصول میں میرے پاس الجھنوں کا ڈھیر لگ گیا ہے کہ جس ملک میں ہم قادیانیوں کے کلمہ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں اسے ہتھوڑیوں سے توڑ رہے ہیں۔جس ملک میں اذان پر پابندی لگوا رہے ہیں ہوسکتا اذان دینے والے کے دل میں کچھ اور خیالات ہو۔جس ملک میں ترجمہ قرآن کرنے والوں کو کال کوٹھریوں میں بند کر رہے ہوں ہو سکتا ہے اس کے پیچھے کوئی اور سازش ہو وہاں یہ اعلانیہ اللہ رسول از واج مطہرات قرآن اور صحابہ کی کیا خدمات ہو رہی ہیں؟ یقیناً احمدی حضرات کا قرآن مجید کی مسلسل اشاعت اور ہماری ان پر پابندیاں اور خود ان تراجم کے لیے سرد مہری اصلی عاشقان اور اصلی مجاہدین کو الگ الگ کر کے دکھا رہی ہے۔حضرت سلطان باہو جو صاحب کشف و حال بزرگ تھے شائد اسی پر در دصور تحال کو پیشگوئی کے رنگ میں یوں بیان فرما گئے تھے : جے کر دین علم وچ ہوندا تے سر نیزے کیوں چڑھدے ہو اٹھاراں ہزار جو عالم آہا اوہ اگے حسین دے مردے ہو جے کچھ ملاخطہ سرور دا کر دے تے خیمے تمبو کیوں سڑدے ہو جے کر مندے بیعت رسولی تاں پانی کیوں بند کردے ہو ہے صادق دین تساں دے باہو جو سر قربانی کردے ہو مولا نا عبدالخالق سبحانی صاحب نے 16 اپریل تا 13 اپریل 1988 ء کے ہفت روزہ احسان میں ایک طویل مضمون لکھا اور اس میں حکومت سے استدعا کی کہ قادیانیوں کے تراجم قرآن پر پابندی لگائی جائے نہ ان کی روزمرہ