کافر کون؟ — Page 360
360 یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا اشارہ خود اپنی صاحبزادیوں کی طرف ہو حضرت لوط کا منشاء صاف طور پر یہ تھا کہ اپنی شہوت نفس کو اس فطری اور جائز طریقے سے پورا کر وجواللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور اُس کے لیے عورتوں کی کمی نہیں۔قرآن کریم کی دوسری آیت قال هؤلاء بناتى ان كنتم فاعلین کا ترجمہ یہ فرماتے ہیں لوط نے عاجز ہو کر کہا: اگر تم میں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں“۔اور اس کی تفسیر میں گل افشانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ کلمات ایک شریف آدمی کی زبان پر ایسے وقت میں آئے جبکہ وہ بالکل تنگ آچکا تھا اور بدمعاش لوگ اس کی ساری فریاد و فغاں سے بے پرواہ ہو کر اس کے مہمانوں پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔(تفہیم القرآن ) استغفر الله مربى من ذلك الخرافات۔کیا اس سے بھی گھٹیا الزام کسی نبی اللہ پر لگ سکتا ہے؟ بالکل نہیں بالکل نہیں۔یہ حرکت کسی نبی سے کجا۔کسی شریف انسان سے تو کجا کسی بازاری انسان سے بھی متوقع نہیں۔میری الجھن اور بڑھ جاتی ہے جب میں آپ کو مجاہد ختم نبوت، عالم دین حامی اسلام اور دشمنان اسلام کے خلاف سنگی تلوار جیسے القابات سے مزین قادیانیت کے خلاف صف اول میں کھڑا دیکھتا ہوں۔کیا قادیانیوں کو ان عقائد میں واپس لوٹانے کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں۔اگر جواب ہاں میں ہے تو میرا جواب یہی ہے کہ وہ اپنی منزل اپنے گھر میں ہی ٹھیک ہیں۔حضرت داؤد کو ہمسائے کی بیوی پسند آگئی اسے جنگ میں بھیج کر شہید کروادیا اور خود اس سے شادی کر لی۔پیغمبر کا یہ داغ خدا کو پسند نہ آیا تو جانچ ہوئی سورہ ص میں حضرت داود“ کا ذکر میں درج ذیل آیات کی تفسیر وهل اتل نبو الحضــم۔۔۔ان له عندنالزلفى وحشن ماب موضع القرآن میں ان آیات کی تفسیر میں فرمایا گیا ہے کہ (آیت 21 تا 25 پاره 23 ) یہ جھگڑنے والے فرشتے تھے۔پردے میں ان کو سنا گئے ماجرا انہیں کا۔گھر میں 99 عورتیں تھیں ایک ہمسائے کی صورت پر نظر پڑ گئی چاہا کہ اس کو بھی گھر رکھیں اس کا خاوند موجود تھا انکے لشکر میں۔ان کو تعین کیا تابوت سکینہ سے آگے جہاں بڑے مردانہ لوگ لڑائی میں بڑھتے تھے۔وہ شہید ہوا پیچھے اس عورت کو نکاح کیا۔اس میں کسی کا خون نہیں کیا۔بے ناموسی نہیں کی مگر کسی کی چیز لے لی تدبیر سے۔پیغمبروں کی ستھرائی والے کو اتنا بھی داغ عیب تھا۔اُس