کافر کون؟

by Other Authors

Page 358 of 524

کافر کون؟ — Page 358

358 میں تحریف و تغیر ہے۔اور ترتیب آیات اور سورتوں میں بھی تبدیلی ہے۔(ملاحظہ ہو تفسیر صافی جزء 22 صفحہ 411 تفسیر لوامع التنزیل جلد 4 صفحہ 15 تا 26 مصنفہ علامہ سید علی حائری ) قرآن کے بعض حصے انسانی سمجھ سے بالا ہیں پھر یہ عقیدہ کہ قرآن مجید کے بعض آیات اور بعض حصے انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں مثلاً حروف مقطعات اور استوى على العرش اعراف 55 کی حقیقت و دیگر آیات چنانچه مودودی صاحب مقطعات کے بارے میں تفہیم القرآن میں مولانا محمود حسن صاحب شیخ الہند اور مولانا بشیر احمد عثمانی نے تفسیری نوٹسوں میں لکھا ہے کہ حروف مقطعات کے اصل معنی تک کسی کی رسائی نہیں بلکہ یہ بھید ہے اللہ اور رسول کے درمیان جو بوجہ مصلحت و حکمت ظاہر نہیں فرمایا۔( ترجمه وحاشیه از مولانا محمود حسن صاحب مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب۔مطبوعہ مدینہ پریس بجنور یو۔پی انڈیا ) تفسیر کے نام پر تعجب انگیز افسانے اور خلاف عقل باتیں قرآن مجید واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ مرنے والے لوگ اس دنیا میں واپس تشریف نہیں لا ئیں گے اس طرح سرکار دو عالم کے واضح فرامین اور شہداء کے حوالے سے اس بات کی وضاحت کے باجود میری بستی کے علماء دین مردوں کو واپس اس دنیا میں لا رہے ہیں یا للعجب 1۔سورہ بقرہ آیت 244،57 کی تفسیر میں یہ عقیدہ عام ہو گیا ہے کہ ہزار ہا نبی اسرائیل پر طاعون کی وبا مسلط ہوئی اور وہ ایک میدان میں سب کے سب مارے گئے۔اور پھر حضرت حزقیل کی دعا سے سب دوبارہ زندہ ہو گئے۔( تفسیر جلالین صفحہ 35 تفسیر حسینی 65 ) 2۔سورہ بقرہ آیت 260 کی تفسیر میں یہ عقیدہ کہ حضرت عزیز نبی ایک سوسال تک فوت رہے اور پھر دوبارہ زندہ ہو گئے اور اس سوسال کے عرصہ تک ان کا گدھا بھی زندہ رہا۔اور ان کا کھانا پینا بھی ہنوز تازہ رہا۔( تفسیر جلالین صفحه 38 تفسیر حسینی (71 3۔حضرت ابراہیم نے چار پرندے لئے ان کے سرتن سے جدا کئے اور دھڑ کا قیمہ کردیا اور پھر برابر گولے بنا کر ان پرندوں کے سروں پر رکھتے ہوئے چار مختلف پہاڑوں پر رکھا اور پھر ان کو بلایا تو وہ بھاگتے ہوئے آگئے۔(زیر تفسیر بقره 261 تفسیر جلالین صفحه 39 تفسیر حسینی (72 4۔بنی اسرائیل نے جب سبت کی نافرمانی کی تو انہیں جسمانی طور پر بندر بنا دیا اور سور بنا دیا۔اور وہ تھے تو انسان مگران کی شکلیں بدل کر بندر اور سؤروں جیسی ہوگئیں۔مودودی صاحب تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ( تفسیر حسینی صفحه 191 تفسیر جلالین صفحه 101 )