کافر کون؟

by Other Authors

Page 343 of 524

کافر کون؟ — Page 343

343 دس کروڑ روپے یا اربوں روپے ”جہاد کشمیر کے نام پر حرکت الانصار کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی بھی ” جہاد کے میدانوں میں بہت سرگرم ہے ایسی ہی ایک خبر ان کے بارے میں بھی بہت مشہور ہوئی وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف صاحب نے بیان کیا کہ قاضی حسین احمد صاحب نے ان سے 10 کروڑ روپیہ جہاد کشمیر کے نام پر وصول کیا تھا اور اس کے علاوہ افغانستان میں گندم کی سپلائی کے حوالے سے بھی مالی کرپشن کے الزام لگائے جماعت اسلامی نے اس کرپشن کے الزام کا جواب تو نہ دیا البتہ سیاست کے میدان میں ہمیشہ کے لیے دونوں پارٹیوں کے راستے الگ ہو گئے۔وزیر اعظم نواز شریف صاحب کے اس بیان کو بھی سیاسی بیان سمجھ لیتے ہیں لیکن ایک دوسرے مولانا جو ایک مستند مولانا کے بھائی ہونے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں فرماتے ہیں کہ یہ کرپشن جو جہاد کے نام پر جاری ہے کروڑوں میں نہیں اربوں روپے میں ہے۔جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام سمیت اربوں روپے مضم جامعہ ازہر کے پروفیسر اور خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبد القادر آزاد کے چھوٹے بھائی مولانا عبد الخالق صاحب نے فرمایا: ”مولوی اس قابل نہیں کہ انہیں اقتدار دیا جائے۔کشمیر جا کر جہاد کرنا جہاد نہیں ہے۔حکومت 500 علماء کا بورڈ بنائے جب تک بورڈ فتوی نہ دے کشمیر میں لڑائی کو جہاد نہیں کہا جاسکتا جماعت اسلامی جمعیت علماء اسلام سمیت متعدد مذہبی جماعتیں قوم کے اربوں روپے ہضم کر چکی ہیں۔مولوی پنجابی فلموں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں کو غیرت کا مسئلہ بنادیتا ہے۔نعت خواں بھی علماء بن گئے ہیں۔چند مدرسوں کو چھوڑ کر باقی سب میں فرقہ واریت کی تعلیم دی جارہی ہے۔یہ کہانی (روز نامہ الفضل 31 جولائی 1997 صفحہ 8 خبریں ) یہ کہانی درد کی کہانی ہے دکھوں اور مصیبتوں کی کہانی ہے جو بہت لمبی ہے دل چاہتا ہے کہ اپنی اس بے کس قوم کا نوحہ لکھوں لیکن قلم دل کا ساتھ نہیں دے رہا۔میرے ایک دوست نے میری یہ مشکل بھی حل کر دی انہوں نے مجھے علماء دین کی کونسل کا خط لا کر دیا جس میں انہوں نے مجموعی طور پر نام لے کر تمام علماء دین پاکستان کا نوحہ لکھا ہے۔روزنامہ ” اساس“ کی 24 مارچ 1997ء کی اشاعت عالمی سطح پر علماء دین کی بے حسی کا قصیدہ لے کر چھایا ہوا ہے تفصیل کچھ یوں ہے۔