کافر کون؟ — Page 342
342 مقام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔مولوی منظور احمد گھی چنیوٹی ان دونوں تنظیموں میں سے کسی کے کارکن یا مبلغ نہیں لیکن اس شخص نے محض چندہ بٹورنے کے لیے اپنے اوپر مبلغ ختم نبوت کا لیبل لگایا ہوا ہے۔اسی کے ساتھ پاکستان علماء کونسل کا بیان بھی پڑھنے کے لائق ہے۔(روز نامه حیدر یکم نومبر 1986 صفحه (2) پاکستان علماء کونسل ملک میں مذہب کے نام پر سیاسی دوکانیں چمکانے والے تاجر ملاوں کا محاسبہ کرے گی۔مولوی منظور احمد چنیوٹی اب صرف چنیوٹ کے کھال فروش قصاب کے سوا کچھ نہیں“۔جہاد جیسے مقدس نام پر کرپشن (روز نامہ مساوات لاہور 29 اپریل 1989 ء ) | حد تو یہ ہے کہ جہاد مقدس جیسا اہم فریضہ ادا کرنے والی تنظیمیں بھی خود اپنے علماء پر کرپشن اور فنڈ ز ہڑپ کرنے کے الزامات لگا رہی ہیں۔26 ستمبر 1995ء کو پاک فوج کے انتہائی اعلیٰ افسران جن میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی ، بریگیڈئیر مستنصر باللہ درجنوں فوجی افسران اور سویلین کو حرکت الانصار جہادی تنظیم کے سر براہ قاری سیف الاختر سمیت گرفتار کر لیا گیا۔گورنمنٹ پاکستان کا ان پر کیا الزام تھا وہ اس وقت شامل بحث نہیں۔شامل بحث وہ بیان ہے جو قاری صاحب کی گرفتاری پر ان کے موید حلقہ حرکت الانصار کی طرف سے پریس بریف میں جاری کیا گیا۔قصہ جہاد کے نام پر اکٹھے ہونے والے روپے اور ان کے ہڑپ کرنے کا ایک گروپ حرکت الانصار میں قاری سیف الاختر کا مخالف ہے اور مجاہدین کو ملنے والے فنڈ ز ہڑپ کرنے کے لیے انہیں راستہ سے ہٹانا چاہتا تھا حرکت الانصار کے قریبی ذرائع نے اس سازش کی جو تفصیلات بتائی ہیں ان کے مطابق حرکت الانصار کے سر پرست اعلیٰ قاری سیف الاختر کا مخالف گروپ کا فی عرصہ سے انہیں ہٹانے کے چکر میں تھا دراصل گروپ مجاہدین کو ملنے والی امداد خود ہضم کرنا چاہتا تھا لیکن قاری صاحب ان کے اس مذہوم مقصد کی راہ میں رکاوٹ تھے۔گورنمنٹ پاکستان اسے آپریشن خلافت کا نام دے کر ایک قومی بغاوت سمجھتی ہے لیکن خود علماء کا گر وہ اسے بھی مالی کرپشن کی حاسدانہ کارروائی قرار دے رہا ہے جو خود ان کے اپنے علماء کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوئی۔اللہ اعلم بالصواب۔