کافر کون؟ — Page 337
337 اس لیے ہے کہ انہیں وہاں اپنی مسجدوں مدرسوں اور خانقاہوں کے نام پر چندے جمع کرنے ہوتے ہیں اور ان مشائخ عظام کے جبوں قبوں اور رہائش گاہوں کی آب و تاب ان ریالوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔سعودی عرب کا سب سے بہترین محکمہ وہاں کی پولیس کا ہے اور ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جب کوئی بڑی آسامی مدرسہ دیکھنے آتی ہے تو یہ اسے دورہ کراتے ہوئے طلباء کے کمرے دکھا کر کہتے ہیں یہ ہاسٹل ہے رقم نہ ہونے کی وجہ سے ان کمروں میں پنکھے نہیں لگ سکے ہیں طلباء گرمی میں رہ رہے ہیں، کچھ آگے چل کر کر کہتے ہیں یہ کچن ہے ہماری بڑی خواہش ہے کہ بچے اچھی خوراک کھائیں لیکن کیا کریں وسائل نہیں ہیں اور پھر اسی شخصیت کو اپنے ائیر کنڈیشنڈ دفتر میں بٹھا کر بکرے کی روسٹنڈرا نہیں اس کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔یہ علماء کی صفوں میں موجود ابوالفضل فیضی کے روحانی فرزند ہیں جو خدا کے دین کے نام لے کر اپنی توند کا حجم اور بنگلوں کے رقبوں میں اضافے کی فکر میں رہتے ہیں۔د ریال، عمرہ اور پگڑی بند ملاں " آج یہ گروہ امریکی فوج کے سعودی عرب میں موجودگی پر اور سعودی حکومت کی یہود ونصاری کو خوش آمدید کہنے پر اس لیے چپ رہتے ہیں کہ ان کے عمرے کا ویزہ بند ہو جائے گا۔جو ریالوں کا دروازہ ہے تو میں بڑے اعتماد سے کہتا ہوں کہ بیت اللہ پر امریکی قبضے کے باوجود زبان بند رکھ کر مکہ کی گلیوں میں جمع کردہ ریالوں سے جو مسجد تعمیر ہوگی وہ بیت اللہ کی بیٹی نہیں ہوسکتی اصحاب الصفہ کا مدرس یر غمال ہو اور مولوی اس پر اپنے چندے کی بندش کے خوف سے چپ ہو تو اس چندے سے بنے والا مدرسہ کسی آشرم کا رشتہ دار تو ہو سکتا ہے صفہ کے مدرسے کا نہیں۔اور مسجد نبوی اور روضہ انور سے یہودی چند منٹ کی مسافت پر بیٹھے ہوں اور مولوی پگڑی باندھ کر مدینہ کی گلیوں میں چندہ مانگ رہا ہو تو ایسا مولوی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے طبقے سے نہیں پاپائے روم پوپ جان پال کے حلقے سے ہو سکتا ہے اور یہی وہ علماء ہیں جن کے لیے رسول اللہ نے فرمایا اور ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے بدترین مخلوق ہو نگے۔(روز نامہ پاکستان اسلام آباد جمعه 29 محرم الحرام ) جمعیت علماءاسلام پاکستان (نیازی گروپ) اہل سنت والجماعت مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے جس میں مولانا عبدالستار نیازی سمیت جید علماء دین کا ایک بہت بڑا گر وہ شامل ہے۔25 جون کولا ہور میں وزارتوں کے جھگڑے پر یہ مذہبی جماعت دوگروپوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ایک گروہ کی قیادت خود نیازی صاحب کر رہے ہیں جبکہ دوسرا گروہ جو بہت بھاری اور بڑا ہے کی قیادت صاحبزادہ فضل کریم ( موجودہ وزیر اوقاف) حاجی حنیف طیب اور سعید احمد شرقپوری جیسے جید علماء دین کر رہے ہیں مزید اس گروپ کو