کافر کون؟ — Page 282
282 ہے جو چاند کی روشنی میں چمک دمک کے ساتھ بد بو اور تعفن پھیلاتی ہیں۔“ جھوٹ نمبر 3 احمدیوں کو کافر بنانے کے لیے مولانا مودودی صاحب کا حضرت امام غزالی پر افتراء بلکہ بار بار افتراء یعنی عالمانہ جھوٹ مولانا مودودی صاحب کو جب جماعت احمدیہ کی مخالفت کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے ایک رسالہ بعنوان ختم نبوت“ لکھا اس میں آپ نے حضرت امام غزالی کا درج ذیل حوالہ ان کی کتاب الاقتصاد صفحہ 113 سے یوں درج فرمایا: امت نے بالا تفاق اس لفظ لا نبی بعدی سے یہ سمجھا ہے نبی صلی یا اسلام اپنے بعد کسی نبی اور کسی رسول کے کبھی نہ آنے کی تصریح فرما چکے ہیں اور یہ کہ اس میں کسی تاویل و تخصیص کی کوئی گنجائش نہیں ہے اب جو شخص اس کی تاویل کرے اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مخصوص کرے اس کا کلام محض بکواس ہے جس پر تکفیر کا حکم لگانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ وہ اس نص کو جھٹلا رہا ہے جس کے متعلق تمام امت کا اجماع ہے“ تبصره (رساله ختم نبوت صفحہ 24-25) عرض صرف اتنا ہے کہ مولانا مودودی نبض شناس رسول جسے ٹائیل سے اپنے حلقہ ارادت میں جانے جاتے ہیں مگر دکھ تو یہ ہے کہ جماعت احمدیہ سے دشمنی میں آپ نے صریح جھوٹ سے کام لیتے ہوئے مندرجہ ذیل عبارت خود گھڑ کر داخل کر دی ہے۔اب جو شخص اس کی تاویل کر کے اسے کسی خاص معنی۔یہاں سے لیکر آخر کیونکہ وہ اس نص کو جھٹلا رہا ہے“۔ظلم تو یہ ہے کہ کتا بچہ ختم بنوت میں آپ نے حضرت امام غزالی کی الاقتصاد کا اردو ترجمہ درج کیا ہے۔جس میں صریح جھوٹ سے کام لیا ہے۔جبکہ اس کتا بچہ سے کئی سال قبل 1953ء کی مشہور منیر انکوائری رپورٹ میں عدالت عالیہ میں اپنا تحریری بیان جماعت احمدیہ کے خلاف درج کروایا جو تیسرے بیان میں درج ہے یہاں آپ نے الاقتصاد کی عربی عبارت درج کروائی مگر اس عربی عبارت میں عربی الفاظ گھڑ کر داخل کر دیئے۔چنانچہ آپ نے عربی عبارت میں درج ذیل الفاظ خود گھڑ کر حضرت امام غزالی کی طرف منسوب کر دیئے۔و من اولة بتخصيص وكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفير لانه مكذب لهذا النص الذي اجمعت الامة على انه غير مأوّل ولا مخصوص“