کافر کون؟

by Other Authors

Page 278 of 524

کافر کون؟ — Page 278

278 پادریوں نے انگلینڈ جا کر رپورٹ پیش کی مسلمانان عالم کا جذبہ جہاد اور اعلاء کلمتہ الحق کا جوش اس قدر ہے کہ ضروری ہے اسے ختم کرنے کے لیے کسی مہدی اور مسیح کو پیدا کیا جائے۔“ ناشر نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان شہر مطبوعه رو داد 1979 ء) 4 مجاہد ختم نبوت جناب مصباح الدین کی مہاراجہ جے سنگھ کے ہاتھوں سرانجام پانے والی تاریخی ڈیوٹی کوایک دوسرے مجاہد ختم نبوت فراڈ قرار دے رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ ڈیوٹی پٹیالہ کے راجہ جے سنگھ نے نہیں۔ڈی سی سیالکوٹ نے ادا کی تھی۔آپ کے الفاظ مبار کہ یہ ہیں۔پنجاب کے گورنر نے اس کام کی ڈیوٹی ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے ذمہ لگائی چنانچہ نبی کی تلاش کا کام شروع ہوا۔آخر قرعہ فال مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نکلا جو ڈ پٹی کمشنر کی کچہری میں معمولی ملازم تھا۔اور آپ نے اس کام کو 1870 ء میں ہی سرانجام قرار پانا مانا ہے۔" تبصره 66 مدیر لولاک“ جناب صاحبزادہ طارق محمود صاحب آپ کی کہانی میں بھی اس قدر کمی ہے کہ 1870ء سے صرف تین سال قبل 1867ء میں حضرت مرزا صاحب کی والدہ صاحبہ فوت ہو گئیں تھیں جس وجہ سے آپ اپریل 1867ء سے سیالکوٹ کو چھوڑ کر قادیان چلے گئے۔پادریوں کی میٹنگ تھوڑی سی لیٹ ہوگئی ہے ورنہ شاید مرز اصاحب سے سیالکوٹ میں ہی ملاقات ہو جاتی۔5۔ضروری نہیں کہ ماہر تحقیق صرف دیوبندی مسلک میں ہی پیدا ہوں بریلوی بھائیوں میں بھی ایک سے ایک نابغہ روزگار موجود ہے۔فیصل آباد کے ممتاز عالم دین صاحبزادہ محمد شوکت علی چشتی نظامی ایم۔اے بانی مرکزی جماعت غریب نواز پاکستان نے 15 نومبر 1985ء کو جامعہ مسجد ت کا یہ فیصل آباد میں ایک تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بہت سارے نقاب تاریخ کے چہرے سے نوچ ہی ڈالے ہیں۔آخر ایسا کیوں نہ ہوتا؟ کیونکہ آپ غریب نواز جماعت کے بانی ہونے کے ساتھ ساتھ ایم۔اے بھی تو ہیں آپ کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ انگریزی نبی یا ایمان فروش نبی کی تلاش کا کام نہ ہی مہا راجہ پٹیالہ جے سنگھ کے سپرد ہوا اور نہ ہی ڈی سی سیالکوٹ کے بلکہ یہ کام انگریزوں نے بانی دیوبند مولا نا محمد قاسم نانوتوی کے سپرد کیا تھا۔یعنی نبی کے عہدے پر متمکن ہونے والے شخص کی دینی گنجائش پیدا کرنے کے لیے پہلے ختم نبوت کے ایسے معنی کروائے گئے اور پھر