کافر کون؟

by Other Authors

Page 277 of 524

کافر کون؟ — Page 277

277 جانے کی تجویز کی گئی تھی مگر ا پریل 1974ء میں اس میں یہ اضافہ کیا گیا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں خطرات کا حل یہ تجویز ہوا کہ کسی شخص سے محمد کا حواری نبی ہونے کا دعوی کرایا جائے۔( خاتم النبیین جلد اوّل صفحہ 48 مولفہ مصباح الدین صاحب ای بلاک نمبر 104 سٹیلائٹ ٹاؤن راولپنڈی تاریخ تالیف اکتوبر 1973 ، نظر ثانی اپریل 1974 ء ) 2۔خاتم النبین کے اوپر مندرج مولف جناب مصباح الدین نے تاریخ کے دوش پر سفر کرتے ہوئے ” کچھ مزید آنکھوں دیکھا حال بھی مصالحے کے طور پر add کیا ہے۔وائٹ ہاؤس لندن کی کہانی کو مزید تقویت دینے والی آپ کی روایت ملاخطہ ہو۔فرماتے ہیں کہ ” لدھیانہ میں مہاراجہ پٹیالہ جے سنگھ نے ایک بزرگ خواجہ احمد صاحب کو انگریزوں کی طرف سے پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں ایمان نہیں بیچ سکتا۔اس امر کا تذکرہ مرزا غلام احمد کی موجودگی میں ہوا۔مرزا صاحب نے مہاراجہ سے ملکر ایمان کا سودا کر لیا۔مہاراجہ کا نام جے سنگھ بہادر اور ان کا خطاب جو انگریزوں نے انہیں عطا کیا امین الملک“ تھا۔“ تبصره (خاتم النبین جلد اول صفحہ 48-49) خاتم النبین جیسے عظیم نائیل سے کتاب لکھنے والے بھائی کہانی اچھی ہے مگر کمی صرف اتنی ہے کہ مرزا صاحب کا ہم عصر کوئی مہاراجہ جے سنگھ برصغیر میں پیدا ہی نہیں ہوا۔منشی دین محمد ایڈیٹر میونسپل گزٹ لاہور نے یاد گار تاج پوشی گیانی گیان سنگھ نے تواریخ خالصہ۔لالہ سوہن لال نے عمدۃ التواریخ سر لیپل گریفن اور کرنل چارلس فرانس میں نے The Punjab Chiefs میں پنجاب کی ساری تاریخ محفوظ کر دی۔جس میں اس نام کے کسی راجے کا ذکر نہیں۔لیکن دوستو! یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ جب ساری دنیا کے اندھوں کو لندن میں واقع وائٹ ہاؤس جیسی عظیم بلڈنگ نظر نہیں آئی تو یہ تو صرف 5،4 مورخ ہیں جن میں سے بھی ایک سردار ہے، کو پٹیالہ ریاست میں ایک مہاراجہ کیسے نظر آسکتا تھا؟ 3۔جناب مصباح الدین کی خاتم النبین“ کے مزید 6 سال بعد یعنی 1979ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے مزید انکشاف کر دیا کہ وائٹ ہاؤس لندن کی عظیم کا نفرنس میں پادریوں نے نہ ہی ظلی نبی اور نہ ہی ”محمد کا حواری نبی کھڑا کرنے کی تجویز دی تھی بلکہ مہدی اور مسیح کو پیدا کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا مجلس تحفظ ختم نبوت کے عظیم سراغرسانوں کا اگلا انکشاف پورے کا پورا پیش ہے۔