کافر کون؟

by Other Authors

Page 261 of 524

کافر کون؟ — Page 261

261 اس کھلے ظلم کے خلاف دل نے صرف فیض کی زبان میں یہ کہا: نه سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے 5۔آج تک ایسا ہوتا ہوگا امام مہدی امام مہدی کی بیعت کے لیے حاضر ہونا خواہ تمہیں برف کے پہاڑوں پر سے گھٹے ہوئے جانا پڑے لیکن جانا اور بیعت کرنا۔۔۔فرمان نبوی صلی ایلام اذا مرايتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج فانه خليفة الله المهدى“ ترجمہ: آپ نے فرمایا پھر اللہ ا خلیفہ مہدی آوے گا جب تم اس کو دیکھو تو اس سے بیعت کر وا گر چہ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل پر چل کر جاؤ کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔( سنن ابن ماجہ جلد سوم مترجم صفحه 331 شائع کردہ اہل حدیث اکادمی کشمیری بازارلاہور ) چودھویں صدی سر پر آگئی ہے شاید چند سالوں میں امام مہدی ظاہر ہو جا ئیں مسلمان علماء کی 1870ء کے لگ بھگ امیدیں مشہوراہل حدیث عالم دین ابوالخیر نواب نورالحسن نے لکھا: اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ مہینے گزر چکے ہیں شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل رحم وکرم فرمائے۔چار برس کے اندر مہدی ظاہر ہو جاویں۔“ ( اقتراب الساعۃ صفحہ 221 ) اے اللہ امام مہدی کو جلد بھیج دین احمد مٹا جاتا ہے۔1892ء میں مسلمان علماء کی پکار مولوی شکیل احمد سہوانی 1309ھ ( 1892ء) میں اسلام پر نازل ہونے والی آفات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے دلی کرب کا اظہار منظوم انداز میں کرتے ہوئے امام مہدی کی آمد کی یوں تمنا کی۔دین احمد کا زمانے سے مٹا جاتا ہے نام قہر ہے اے میرے اللہ یہ ہوتا کیا ہے کس لیے مہدی برحق نہیں ظاہر ہوتے دیر عیسی کے اوتر نے میں خدا یا کیا ہے مولانا حالی اپنی مسدس میں یوں گریہ کناں تھے : الحق الصريح في حياة اسبیح صفحه 133 ) اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے