کافر کون؟

by Other Authors

Page 249 of 524

کافر کون؟ — Page 249

249 مرزا صاحب آیت ولو تقول علينا بعض الاقاویل سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو 23 سال تک مہلت نہ پاسکتا جو زمانہ نبوت حضرت ختم الرسل کے برابر ہے لیکن اس آیت سے ان کا یہ استدلال باطل ہے۔کیونکہ کئی کا ذب مدعیان نبوت کا زمانہ 23 سال کی مدت سے زیادہ ہے۔ولا حول ولا قوة الا بالله عشرہ کاملہ صفحہ 220 - 221 طبع سوم ) دوستو میں حیرانی سے اپنے علماء کا حوصلہ دیکھ رہا ہوں کہ چیلنج خدا کا ہے نہ کہ مرزا صاحب کا۔جسے خدا تعالیٰ نے آنحضور صلی لا یتم کی زبان مبارک سے قرآن حکیم میں دلیل کے طور پر پیش کیا اور 1400 سو سال میں مسلمان مبلغین ومفسرین نے علی الاعلان دہرایا لیکن آج ہم نے اس پر باطل کی مہر لگادی ہے آخر کیوں؟ 2۔آج تک ایسا ہوتا ہوگا آخری زمانہ میں مہدی کے ظہور کے وقت اس کی سچائی کے لیے سورج اور چاند کو رمضان میں گرہن لگے گا۔آنحضور صلی یا ہم نے آخری زمانے میں آنے والے امام مہدی کے علامت اور سچائی کی دلیل کے طور پر فرما یا: إِنْ لِمَهْدِ يَنَا أَيَتَيْنِ لَم تكونا مُنْذُ خَلْقِ السموات والارض تَنْكَسِفُ الْقَمَن لا وَل لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْخَسِفَ الشَّمْسُ في النَّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوتِ والارْضَ ( سنن دار قطنی جلد نمبر 2 کتاب العید بین باب صفۃ الصلوۃ الخسوف والكسوف و بیتھما 6 مطبوعہ 1966 مطبع دار المحاسن للطباعة 241 شارع الجيش القاہرہ ) ترجمہ : یعنی ہمارے مہدی کے لیے دو نشان ہیں اور جب سے زمین وآسمان پیدا ہوئے یہ نشان (کسی اور مامور کے حق میں ) ظاہر نہیں ہوئے ( ان میں سے ایک ) چاند گوگر ہن رمضان کے مہینے میں ( چاند گرہن کی تاریخوں میں سے ) پہلی رات کو اور سورج کو گرہن ہو گا نصف کو (یعنی درمیانی دن سورج گرہن کی تاریخوں میں سے ) اور جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کئے یہ نشان وقوع پذیر نہیں ہوئے۔“ 1400 سو سال سے مستند حدیث مندرجہ بالا حدیث مبارکہ اصول روایت و درایت کے عین مطابق ایک بلند پایہ حیثیت کی حامل ہے۔اسی وجہ سے پچھلے 1400 سال سے تمام علماء کرام اس حدیث کو اپنی کتب میں درج فرماتے آ رہے تھے اور امام مہدی کی سچائی کے لیے ایک عظیم نشان بتارہے تھے۔دی مثلاً مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کو درج ذیل محدثین و علماء کرام نے اپنی اپنی تصانیف میں تقریباً ہر صدی میں جگہ