کافر کون؟

by Other Authors

Page 13 of 524

کافر کون؟ — Page 13

13 اس عمارت کو مسجد کی بجائے بار بار عبادت گاہ کہتے ہوئے کتنا گڑ بڑا رہے تھے۔خون کی ہولی پر لائیو ٹرانسمیشن ختم ہوئی تو اینکر حضرات میزیں سجا کر بیٹھ گئے اور Table Talk پروگرام شروع ہو گئے۔اور پھر پہروں پہر گزر گئے مگر نہ جلوس ، نہ پتھر نہ نعرے، نہ توڑ پھوڑ نہ ہاؤ ہو کار۔حکومتی ارباب حل و عقد حیران اور مخالفین پریشان۔کون لوگ ہیں یہ اور کس مٹی سے بنے ہیں یہ ؟ اتنے پر سکون چہرے۔اتنی پرسکون آنکھیں۔کہاں سے سیکھے ہیں یہ آداب شہادت؟ مسجد کے اندر شہید ہو تا مر بی۔درود پڑھنے اور صبر کی تلقین کا اعلان کر رہا ہے۔دوسرے کو بچانے کے لئے ہر کوئی آگے بڑھ بڑھ کر اپنی جان پیش کر رہا ہے۔بم چل رہے ہیں۔کلاشنکوف کی گولیوں کی باڑ پہ باڑ آ رہی ہے۔نہ گلہ نہ سسکیاں ، نہ گالیاں، نہ دھاڑ۔شور ہے تو درود جیتی ٹوٹتی سانسوں کا۔اتنی آقا صلی یہ الم سے محبت۔اتنی جانثاری۔کہاں سے سیکھے ہیں یہ آداب فدائیت؟ کہیں تاریخ کے جھروکے سے حضرت زید بن الدشنہ کا مقتل اور اس سے اٹھتا ہوا نعرہ مستانہ تو نہیں لوٹ آیا؟ کیونکہ یہ پرسکون چہرے تو صرف اور صرف عاشقان رسول صلی پریتم کی ہی میراث ہیں۔فَلَستُ أبالى حِينَ عَلَى أَي جَنبِ مسلماً أقتل كانَ لِلهِ مصرعى وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الاله وَ اِن يَشَاءُ يبَارِد عَلى أَوصَالِ شلو مُمَزّع رات ڈھلی تو صحرائی بھیگی ہوئی ہواؤں کے دوش پر میں بھی اپنے دیس واپس لوٹ گیا۔وہ دیس جس میں اللہ کا نام لینے پر دو دفعہ جیل کائی۔ایبٹ آباد، مانسہرہ ، ہری پور، ڈاڈر ، جبوڑی ، بالاکوٹ ، کے بیسیوں اسیران راہ مولا کی دس سال خدمت کا موقعہ ملا۔یادوں کے دیپ جلے تو جلتے چلے گئے اور پھر اسی وادی ہزارہ کی برسوں پہلے کی سنی ہوئی اک داستان یاد آ گئی۔فریدون خان جدون کی داستان جوایسی ہی پرسکون آنکھوں کی کھوج میں نکلا تھا۔میں نے وہ داستان لکھی اور پھر بھول گیا مگر آج 14 سال بعد شہدائے لاہور نے ہر گر د کو دھو ڈالا اور ہر ایسی داستان کو زندہ کر دیا۔ہاں وہی عظیم شہدائے