کافر کون؟ — Page 14
14 لا ہور جو ہر سوال کا جواب بن گئے۔جنہوں نے اپنے خون سے یہ انمٹ داستان لکھ دی کہ حسین کبھی نہیں مرتے اور پھر بھیگتی ہوئی رات کے اس پہر میں دور سے آنے والے ایک دیوانہ کی آواز کے سحر نے جیسے پورے ماحول کو سو گوار کر دیا جو اونچے سروں میں گا رہا تھا یہ کون لوگ ہیں حق کا علم اٹھائے ہوئے جو راہ غم میں ہیں چپ چاپ سرجھکائے ہوئے گواہی دینے کو جھکتا ہے آسمان جن کی جو تاج سر پر شہادت کا ہیں سجائے ہوئے جنہیں زمین شوق سے سو بار چومتی ہے سفید پوش ہیں جو خون میں نہائے ہوئے ہے ان کے پاس تو ان کے لیے بھی کلمہ خیر کہ جن کی تیغ ستم کے ہیں ستائے ہوئے گینوں تو کم ہیں جو سمجھو تو ان گنت ہیں یہ کہ دو جہاں کی ہیں وسعتوں که مقام بلند ان کا منتظر چھائے ہوئے یہ جا رہے ہیں کہیں اور گھر لٹائے ہے کہیں ہوئے یہی تو لوگ ہیں مقبول بارگاہ رسول یہی ہیں اب دو عالم کے آزمائے ہوئے یوں تو یہ کہانی ان سینکڑوں ہزاروں متلاشیان حق میں سے ایک فریدون خان جدون کی کہانی ہے جو جب کسی احمدی کے قریب ہوتے ہیں اور پھر اس کے اخلاق اور عشق رسول صلی سی ہستی سے متاثر ہوکر بے ساختہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پھر یہ ہمارے مولوی آپ کو کا فرکیوں کہتے ہیں؟“ فریدون خان جدون کا واسطہ بھی ایک ایسے ہی احمدی نماز کے ملزم سے پڑا تو وہ حیران ہو گیا اور اسی حیرانی میں تحقیق حق کی کھوج میں نکل کھڑا ہوا۔سالوں کتابوں کی گرد چھانتا اور اپنے مولا کے حضور