کافر کون؟

by Other Authors

Page 127 of 524

کافر کون؟ — Page 127

127 قرآن مجید میں اگر ابتداء سے لیکر انتہاء تک نگاہ ڈالیں تو پتہ چلتا کہ چار ایسے اسباب اور وجوہات ہیں کہ جن کے ماتحت دنیا میں کوئی نہ کوئی نبی اور رسول آتارہا لیکن حضور ملیشیا ایم کے تشریف لانے کے بعد یہ چاروں اسباب اور وجو ہات منقطع ہو چکے ہیں اب قیامت تک کوئی شخص نئی نبوت کے ساتھ نہیں آسکتا۔اور آپ کے بعد نبوت ورسالت قیامت تک منقطع ہو چکی۔ان اسباب کی تفصیل کچھ یوں ہے: اگر سابقہ نبی کی لائی ہوئی شریعت اور دی ہوئی تعلیم دنیا سے بالکل نا پیدا اور مٹ چکی ہو اور پھر اس شریعت اور تعلیم کو تازہ کرنے کے لیے نئے نبی اور رسول کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔اب اس سبب کے تحت آپ کے بعد کوئی مدعی نبوت نہیں آسکتا۔ii۔سابقہ نبی اور رسول کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیم میں کوئی خامی اور کمی رہ گئی ہو تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک نبی کی ضرورت ہوتی ہے۔اب وہ کونسی خامی اور کمی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے ایک نئے نبی کی ضرورت ہے۔iii- تیسری وجہ دنیا میں کسی نبی کے آنے کی یہ ہو سکتی ہے کہ سابقہ نبی اور رسول کسی خاص قوم، علاقہ شہر بستی یا ملک کے لیے ہو تو پھر دوسری قوم اور علاقہ کے لیے ایک نبی رسول کی ضرورت ہے مگر اب اس سب۔۔۔۔۔۔کے ماتحت بھی حضور اکرم کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔۱۷- چوتھی وجہ کسی دوسرے نبی کے آنے کی یہ ہو سکتی ہے کہ جو نبی موجود ہو اس کی زندگی میں اس کی امداد کے لیے دوسرا نبی معبوث کیا جاتا ہے جیسے حضرت موسیٰ کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔اب ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کون سی پانچویں وجہ ہے جس کے تحت حضور اکرم صلیانی ایام کے بعد ایک نئے نبی کی ضرورت ہے۔( قرآن مجید اور ختم نبوت ، صفحہ 3 تا 7 شائع کردہ ادارہ مرکز یہ دعوت وارشا درجسٹرڈ چنیوٹ) 2 - آنحضور سلام کے بعد کوئی بھی نبی رحمت نہیں لعنت ہے۔اگر نبی آبھی گیا تو میں اس کا انکار کر دوں گا۔ختم نبوت آف منصورہ یعنی جماعت اسلامی کا نقطہ نظر جماعت اسلامی مولانا مودودی صاحب کو نبض شناس رسول جیسے عظیم ٹائیٹل سے یاد کرتی ہے۔آپ نے بھی ایک عدد کتاب ختم نبوت“ کے نام سے مرقوم فرمائی ہے جس میں اوپر درج مولانا ابراہیم صاحب کی چار وجوہات کو من و عن درج کرنے کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ اب کسی نبی کے آنے کی پانچویں وجہ مجھے بھی بتائی جائے۔( قرآن مجید اور ختم نبوت ملحض صفحہ 43)