کافر کون؟ — Page 12
12 وہ مینار پر چڑها دهشت گرد اور اک برسوں پرانی داستان صحرائے اعظم کی طرف جانے والی عظیم قدیمی شاہراہ کے کنارے ”برنی کونی“ کا ایک چھوٹا سا قصبہ روزانہ سینکڑوں پور بی سیلانیوں سے بھرا رہتا ہے۔سیاح ایک لمبے تھکا دینے والے صحرائی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے کچھ خریداری کرتے ہیں۔گاڑیوں کے ٹینک فل کروانے کے ساتھ ساتھ اضافی کین بھی بھرتے ہیں اور پھر کچھ دیر آرام کر کے آغا دیں اور زینڈر کے دور افتادہ تاریخی صحرائی شہروں کو دیکھنے نکل پڑتے ہیں۔بسوں کے اڈے سے چند قدم کے فاصلے پر واقع آبادی کے بیچوں بیچ احمد یہ مسجد کے مینار اور مشن ہاؤس کے دروازے ہر ایسے اجنبی کا استقبال کرتے اور اسے ابدی زندگی کی لازوال حقیقتوں کی طرف جانے والی شاہراہ کی طرف راہنمائی کے لئے موجود نظر آتے ہیں۔28 مئی 2010 کی صبح بھی خاکسار اپنے دفتر میں آئے ہوئے چند مہمانوں کو جماعت کا تعارف کروانے میں مصروف تھا کہ اچانک گھر سے آنے والی چیچنوں اور رونے کی آوازوں نے مجھے گھر کی طرف دوڑنے پر مجبور کر دیا۔میں جب بھاگتا ہوا ڈرائینگ روم میں پہنچا تو دیکھا سب بچے ٹی وی کے سامنے کھڑے اپنی امی سے لیٹے رو ر ہے تھے۔Dunya news چینل کے کیمرے گڑھی شاہولا ہور کی احمدیہ مسجد کے مینار پر چڑھے کلاشنکوف والے دہشت گرد کو بار بار دکھا رہے تھے جو کسی جانب ہاتھ اٹھا کر فتح کا نشان بنا رہا تھا۔نیوز کاسٹر حضرات بڑی مہارت کے ساتھ تول تول کر لفظ بول رہے تھے کہ کہیں سینکڑوں سجدے میں سر کٹانے والوں کے لئے نمازی کا لفظ منہ سے نہ پھسل جائے۔وہ قانون وقت کی لٹکتی تلوار کے نیچے خون مطہرہ سے تازہ تاز فنسل کی ہوئی چار میناروں والی