کافر کون؟

by Other Authors

Page 107 of 524

کافر کون؟ — Page 107

107 اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ بشخص آسمان سے اترا ہے“۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 225 حاشیہ ) کہاں ہیں مدعی حب محمد سامنے آئیں سمجھتے ہیں جو اپنے آپ کو باریک بینوں میں پڑا ہو آمنہ کا لال یثرب کی زمینوں میں مگر مریم کا ہونو رنظر گردوں میں نشینوں میں مشکل نمبر 11 جو کام سردار انبیاء فخر کائنات نہ کر سکے وہ حضرت عیسی کیسے کر گزرے؟ تو بڑا کون؟ کفار مکہ نے آنحضور صلی شما پیام سے جو نشانات طلب کئے ان میں سے ایک یہ بھی نشان انہوں نے طلب کیا اور سب سے آخر میں رکھا اور اپنے ایمانی فیصلہ کواس پر ٹھہرایا وہ نشان کیا تھا۔او ترقی فی السماء کہ آسمان پر چڑھ کر دکھا جواب تھا قل سبحان ربى هل كنت الا بشر امر سولا ( بنی اسرائیل ع 11 ) یعنی کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے کتاب لائیں جس کو ہم پڑھ کر آپ پر ایمان لائیں۔آپ کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ تو ان سے کہہ دے میرا رب جہتوں سے پاک ہے۔اور میں بندہ اور رسول ہوں۔خاتم النبین اور رحمۃ للعالمین کی غلامی کرنے والوں بھائیو! جہاں ہماری دینی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم کچھ دیر کے لیے سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا۔میں جہتوں سے پاک ہوں یعنی آسمان پر بیٹھا ہوا نہیں ہوں۔۔آنحضور صلہ یہ تم ایک بشر ہیں۔iii- بشر آسمان پر چڑھا نہیں کرتے۔اگر ہم یہ بات مان لیں کہ حضرت عیسی کو اللہ تعالی آسمان پر اپنے پاس اٹھا لے گیا تو مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں حضرت عیسی کے لیے۔i - اللہ تعالیٰ دور کہیں آسمان پر بیٹھا ہوا ہے اور جہتوں سے پاک نہیں ہے۔ii- حضرت عیسی آسمان پر چڑھ گئے اور اللہ کے پاس پہنچ گئے۔