کافر کون؟ — Page 95
95 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی انی متوفیک و رافعل الی کہ عیسی میں تجھے وفات دوں گا اور تیرے درجات اپنے حضور بلند کروں گا۔میری چوتھی مشکل عربی کا ایک مسلمہ ناقابل تردید قاعدہ ہے جو چیلنج کی شکل میں جماعت احمدیہ 100 سال سے زائد عرصہ سے شائع کر رہی ہے جس کا جواب کبھی کسی سے نہیں بن سکا آئیے وہ قاعدہ بھی دیکھیں اور اس قاعدے کو توڑنے کی جو کوشش کی گئی اس کو بھی دیکھتے ہیں: اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اشعار وقصائد ونظم و نثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو۔۔۔۔۔اور باب تفعل سے ہو۔سوائے قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنوں پر بھی اطلاق پا گیا ہے ( ماسوائے نیند یا رات کا قرینہ ساتھ ہو تو معنی نیند ہو گا تو ایسے شخص کے لیے 1000 روپیہ انعام“۔ملحض ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 603 ) ایک احمدی شاعر اس کو منظوم انداز سے یوں بیان کرتا ہے: احمد صلی ا یلم میں جب احد ہے تو احمد احد میں ہے لاگر کوئی دلیل تری اس کے رد میں ہے بن باپ کو چڑھاتا ہے تو آسمان پر سارے جہاں کے باپ کو کہتا ہے لحد میں ہے اس کے باوجود بھی اصرار ہے کہ نہیں مسیح کے لیے استعمال ہو تو معنی وفات نہیں ہوتے۔جناب مودودی صاحب نے مندرجہ بالا چیلنج کوقبول کر کے جو شاندار جواب دیا ہے وہ بھی سنہری لفظوں سے لکھنے کے قابل ہے آپ فرماتے ہیں: دو بعض لوگ جن کو مسیح کی طبعی موت کا حکم لگانے پر اصرار ہے سوال کرتے ہیں کہ توفی کا لفظ قبض روح و جسم پر استعمال ہونے کی کوئی اور نظیر بھی ہے؟ لیکن جبکہ قبض روح و جسم کا واقعہ تمام نوع انسانی کی تاریخ میں پیش ہی ایک مرتبہ آیا ہو تو اس معنی پر اس لفظ کی نظیر پوچھنا محض ایک بے معنی بات ہے“۔تفہیم القرآن جلد اول حاشیہ نمبر 195 صفحه 412 آخری پیراگراف) یقینا اس چیلنج کا جواب میری مشکل کو کم کرنے کی بجائے کہیں بڑھا گیا ہے۔مشکل نمبر 5 نئے علوم کا تازیانہ اورسینکڑوں گروپ