کافر کون؟ — Page 80
80 00 45 تا 63۔۔۔یا جوج و ماجوج اور دجال اپنے گدھے پر سوار بعینہ ایک دن ظہور کریں گے کچھ علماء کا دعوی یہ سب جھوٹی احادیث اور افسانے ہیں۔۔۔دوسرے علمائے کرام کا دعویٰ یہ سب درست احادیث مبارکہ ہیں جو مکاشفات رسول پاک ملایا کہ تم پر مبنی زبر دست پیشگوئیاں ہیں۔۔۔جماعت احمدیہ حمد و جال دجال کے معنی یہ بنے کہ ایک کثیر تعداد جماعت جو تاجر پیشہ ہو اور اپنا تجارتی سامان دنیا میں لئے پھرے۔جونہائیت مالدار ہو اور جو تمام دنیا کو اپنی سیر و سیاحت سے قطع کر رہی ہو۔اور مذ ہبا ایک نہائیت ہی جھوٹے عقیدہ پر قائم ہوا ور یہ تمام علامات مغربی اقوام کی مسیحی اقوام کے مذہبی راہنماؤں میں موجود ہیں۔“ اثر دجال تبلیغ ہدایت صفحه (102) ان احادیث میں دجالی اقوام کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ایسی تیز رفتار سواریاں ایجاد کریں گی جن میں لائٹس لگی ہونگی۔جن پر بیٹھنے کے لئے نشستیں ہونگی۔وہ سواریاں زمین پر بھی چلیں گی یعنی ریل گاڑیاں اور موٹریں وغیرہ اور فضا میں بھی اڑیں گی یعنی ہوائی جہاز اور سمندر میں بھی چلیں گی یعنی بحری جہاز۔اور گدھے کے دوکانوں کے درمیان فاصلے سے مراد یہ کہ یہ تو میں ایسی ایجادات کریں گی جس سے پیغام رسانی کا کام بہت ہی کم وقت میں سرانجام دیا جا سکے گا جیسے ٹیلی فون، انٹر کام اور پیغام رسانی کی یہ تمام سہولتیں دجال کی ایجاد کردہ سواریوں میں بھی موجود ہوگی اور عملاً ایسا ہو رہا ہے“۔ہی انکا یک چشم ہونا ان کی مادیت ہے جس نے ان کے دین کی آنکھ کو بند کر رکھا ہے۔آنکھوں کے درمیان کا فرلکھا ہونے سے ان کا بدیہی البطلان الوہیت مسیح کا عقیدہ مراد ہے جسے ہر سچا مومن خواہ وہ خواندہ ہو یا نا خواندہ پڑھ سکتا ہے“۔میدان کا زمین آسمان میں تصرفات کرنا خزانے نکالنا اور زندہ کرنا اور مارنا وغیرہ ان کے علوم جدیدہ اور سائنس وغیرہ کی طاقتوں اور سیاسی غلبہ کی طرف مجازی طور پر اشارہ ہے۔ورنہ از روئے حقیقت تو یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور انکو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے“۔