کافر کون؟

by Other Authors

Page 5 of 524

کافر کون؟ — Page 5

5 جواب میں بیگم نے اپنی سہیلی سے حاصل شدہ تفصیلات جو زیادہ تر گرفتاری کے متعلق تھیں بیان کر دیں۔گرفتاری کے وقت کے حالات سن کر مجھے انسانی ہمدردی سے زیادہ بیگم کی ہمدردی میں بہت دکھ ہوا۔میں نے بیگم کو تسلی دی کہ میں ابھی تھانے جا کر ملاقات کرتا ہوں اور جرم کی نوعیت دیکھ کر ضمانت کا بندو بست کرتا ہوں۔چنانچہ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد میں تھا نہ صدر کینٹ جاپہنچا۔بڑی مشکل سے حوالات میں ملاقات کی سبیل نکلی۔میرے مطلوب مجرم کے ساتھ سات آٹھ اور باریش بزرگ بھی حوالات کی سلاخوں کے پیچھے گندے فرش پر بیٹھے نظر آئے۔بہر حال سلام دعا کے بعد میں نے حقیقت حال پوچھی اور اپنی خدمات پیش کیں۔مبشر صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا بہت بہت شکریہ آپ نے تشریف لانے کی زحمت کی۔صرف گھر میں بیگم بچوں کو اطلاع کر دیجئے گا کہ ہم سب خیریت سے ہیں۔باقی جب اللہ تعالیٰ انتظام فرمائے گا رہائی ہو جائے گی۔ان کا مسکراتا پر سکون چہرہ اور روشن آنکھیں اور پھر حوالات کی سلاخیں میرے دل و دماغ کی تاروں میں کہیں الجھ کے رہ گئیں۔اسی ادھیڑ بن میں گھر میں آیا اور پھر رات میں ٹھیک سے سو بھی نہ سکا۔بات یہ نہ تھی کہ میرا ہمسایہ جیل میں کیوں گیا؟ بلکہ اس ملزم کی وہ پرسکون آنکھیں بار بار یاد آرہی تھیں جو کسی ایسے ”جرم“ کی نشاندہی کر رہیں تھیں جو شاید صدیوں بعد ارتکاب پذیر ہوتے ہیں۔اگلے دن یہ لوگ حوالات سے جیل میں منتقل ہو گئے اور میں 26 روزہ دورے پر داسو اور پٹن کی طرف چلا گیا۔واپسی پر اطلاع ملی کہ وہ سب لوگ ابھی تک جیل ہی میں ہیں اور مقدمہ سیشن کورٹ میں چلا گیا۔چنانچہ میں دفتر سے چھٹی لیکر جیل گیا۔مبشر صاحب حسب معمول جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی تروتازہ اور مسکراتے نظر آئے بلکہ وہ مجھے فرمارہے تھے کہ آپ نے تکلیف کی چھٹی لیکر تشریف لائے یہاں سب خیریت ہے امید ہے دو چار روز میں ضمانت ہو جائے گی اور پھر ہفتہ بعد ان کی ضمانت ہو گئی۔مجس سے مجبور اور پر سکون آنکھوں کے تعاقب میں میں ایک شام ان کے بنگلے پر جا پہنچا ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے F۔I۔R کی نوعیت جاننا چاہی۔وہ بات کو خوبصورتی سے ٹال گئے۔مگر میری سوئی اک بار پھر جرم کی نوعیت پر جانکی۔مجھے بضد دیکھ کر وہ بنگلی کمرے کی طرف گئے اور ایک کاغذ کا ٹکڑا لے کر واپس آگئے۔یہ تھانہ صدر ایبٹ آباد کی طرف سے کاٹی گئی F۔IR تھی۔کاغذ ہاتھ میں لیکر میں نے اُسے ایک دفعہ پڑھا۔دو دفعہ پڑھا۔جلدی جلدی پڑھا اور پھر رک رک کر پڑھا۔مطالعہ کے بعد آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہوا کہ مجرم میں ہوں اور بے گناہ شیخص۔یہیں سے اُس کہانی نے جنم لیا جو اس تصنیف کا سبب بن گئی ہے۔وہ F۔I۔R کیا تھی۔اس میں درج جرم کیا تھا میں اس کو پورا ہی یہاں درج کیے دیتا ہوں۔