کافر کون؟ — Page 4
4 داستان بزبان راوی قصہ ایبٹ آباد کے ایک ڈی سی صاحب کے فرمان کا۔۔۔میہ ان دنوں کی بات ہے جب میں Posting کے سلسلے میں وادی ہزارہ کے سرمائی ہیڈ کوارٹر ایبٹ آباد میں مقیم تھا۔میرا بنگلہ شہر سے تھوڑا ہٹ کر کا کول گاؤں کے پاس بلند و بالا خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں ایک ٹیلے پر واقع تھا۔جس کی مغربی جانب پہلی سی پگڈنڈی تھی جو بل کھاتی ہوئی نیچے جا کر مین روڈ سے مل جاتی تھی جبکہ مشرقی جانب دور تک سبز گھاس کے پھیلے ہوئے قالین میری ہر صبح کو یاد گار نشے میں بدل دیتے۔میں دفتری امور سے فارغ ہو کر جلدی جلدی گھر پہنچ جاتا جہاں عصر کے بعد میں اور میری نو بیا بہتا بیگم ڈوبتے سورج کی سنہری شعاعوں کی چھاؤں میں چائے کی چسکیاں لیتے کبھی غم دوراں کے قصوں اور کبھی مستقبل کے سہانے خوابوں میں کھو جاتے۔وارفتگیوں کے یہ لامحدود سلسلے اُس وقت ٹوٹتے جب پہاڑوں کے دامن میں اترتی ہوئی خاموش خنک شام ہمیں اپنے دامن میں چھپا لیتی اور ہزارے کی برفیلی ہوائیں ہمیں ڈرائنگ روم کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیتیں۔وقت معمول کے مطابق گزررہا تھا کہ ایک دن میں جب گھر آیا تو خلاف معمول بیگم بڑی حواس باختہ ہی نظر آئی۔اس کی خوف سے پھیلی آنکھیں کسی متوحش ناک خبر کا اعلان کر رہیں تھیں۔بہر حال لاحول پڑھنے کے بعد میں نے ہمت کر کے پوچھا کیوں بیگم گھر میں سب خیریت تو ہے ناں؟ جواب تھا گھر میں تو سب خیریت ہے مگر یہ جو ہمارے ہمسائے ہیں مبشر صاحب آج پولیس ان کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔میری بے اختیار ہنسی نکل گئی۔میں نے بیگم کو بتایا کہ وہ تو ایک قادیانی ہے۔میرا کہنا شاید بیگم کو اچھانہ لگا کیونکہ آخر وہ میری بیگم کی اکلوتی سہیلی کے میاں صاحب تھے۔زنانہ چہرے کے تاثرات اور حالات کی نزاکت سے مجھے فرمانبردار شوہر بننے میں ذرا دیر نہ لگی اور میں نے کھسیانے انداز میں جلدی جلدی پوچھنا شروع کر دیا کہ بتائیں کیا بات ہوئی؟ کیوں گرفتار کیا گیا؟ وہ تو بڑے شریف انسان اور ایک معزز عہدے پر فائز ہیں وغیرہ وغیرہ۔