کافر کون؟

by Other Authors

Page 442 of 524

کافر کون؟ — Page 442

442 تو خوش ہے کہ تجھ کو حاصل ہیں میں خوش کہ میرے حصے میں نہیں وہ کام جو آساں ہوتے ہیں، وہ جلوے جو ارزاں ہوتے ہیں آسودہ ساحل تو ہے مگر شاید یہ تجھے معلوم نہیں ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں ، خاموش بھی طوفان ہوتے ہیں یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع نہ ہوجائے گا لیکن کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرف بہاراں ہوتے ہیں جو حق کی خاطر جیتے ہیں مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگر جب وقت شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں نوٹ : فرا بلز انٹر نیشنل سکول کے بارے میں مکمل رپورٹ ہفت روزہ تکبیر 14 نومبر 1996ء میں زیر عنوان افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی صفحہ 8 تا 11 اور اسی شمارے میں زیر عنوان کفر کی تعلیم اور توہین رسالت صفحہ 16 تا 19 ملاخطہ کی جاسکتی ہے۔منصور توسر دے کے سبک ہو گیالیکن دوستو! تحقیق کی اس منزل پر اگر بار نہ ہو تو ایک لمحہ کے لیے مڑ کر دیکھیے اور حضرات ثعبان ثوری کا قول یاد کیجئے آپ نے فرمایا تھا: مبارک ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کرنے کے لیے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں۔“ اور حضرت مولانا رومی کا قول کہ: جس کے افعال شیطان اور درندوں جیسے ہوتے ہیں کریم لوگوں کے متعلق اس کو بدگمانی ہوتی ہے۔“ آج مبارک کون؟ اور کریم لوگوں کے بارے میں شک کرنے والا کون؟ یہ جانکاری ہی میری دردسر بن گئی ہے آسودہ ساحل تو ہے مگر کلمہ کا بیچ سینے پر سجائے ، درود شریف کا ور در کرتے ہوئے ، بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم انشاء اللہ اور السلام علیکم کے نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے 10 سال تک عدالتوں کی خاک چھا چھان کر اور انصاف کے ایوانوں میں حاضریاں دے دے کر آخر 25، 25 سال سزا یعنی عمر قید کا پروانہ لیکر شیخو پورہ جیل کی اندھی سنسان کال کوٹھریوں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔