کافر کون؟

by Other Authors

Page 426 of 524

کافر کون؟ — Page 426

426 اعضاء روپوں کے لالچ میں شدید مجبوریوں کی بنا پر یہ مذموم دھندہ کرنے والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا کرتے تھے۔لیکن ہولناک جنگ کی وجہ سے یہ دھندہ ایک با قاعدہ کاروبار اختیار کر گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اس کاروبار میں بین الاقوامی بدنام زمانہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی شامل ہو گئے ہیں اور خود ایک مافیا کی شکل میں کام کر رہے ہیں۔مافیا کے لوگ شدید زخمیوں کی تاک میں رہتے ہیں۔اسکے علاوہ لوگوں کو اغوا بھی کر لیا جاتا ہے اور ان کے دل گردے۔آنکھیں محفوظ کر کے خواہشمند حضرات کو فروخت کر دی جاتی ہیں۔اور لاکھوں ڈالر کمائے جاتے ہیں پہلے پہل پاکستان میں بھی گردوں کی خرید و فروخت ہوئی تھی اور اکثر و بیشتر خلیجی ممالک کیلئے ان کی فروخت ہوتی تھی۔اخبارات میں باقاعدہ ضرورت گردہ کا اشتہار ہوتا تھا ان میں واقعی ضرورت بھی ہوتی تھی بقیہ سب کا روبار تھا۔اس میں ایک قباحت یہ بھی ہوتی تھی کہ اکثر و بیشتر یہ کاروبار کرنے والوں کو منشیات کا استعمال کرنے والے لوگ ملتے تھے لیکن اب ان کے کیلئے افغانستان ایک منڈی کی شکل میں سامنے موجود ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسانی اعضاء حاصل کرنے کے بعد محفوظ کئے جاتے ہیں اور پھر انہیں بھارت سمگل کر دیا جاتا ہے اور وہاں سے بین الاقوامی سطح پر خواہشمند لوگوں کو فروخت کر دیئے جاتے ہیں۔مافیا کے ایجنٹ بھارت میں بھی سرگرم عمل رہتے ہیں اور وہاں سے بھی انسانی اعضاء حاصل کر لیتے ہیں اس وقت یورپین ممالک میں گردوں دل کی بہت مانگ ہے اور اسے پورا کرنے کیلئے مفاد پرست انسانی جانوں سے کھیلنے سے بھی نہیں رکتے۔(روز نامہ صحافت اسلام آباد 6 دسمبر 1997ء ) ڈیرہ غازی خان میں عورتوں کی خرید و فروخت کا کاروبار پھر شروع تکبیر کی رپورٹ پر وزیر اعظم کے حکم سے کی جانے والی کارروائی کے بعد روپوش ہو جانے والے بردہ فروش دوبارہ فعال ہو گئے مجرموں نے بنگالی عورتوں کی جگہ مقامی غریب گھرانوں کی شریف زادیوں اور بدکاری کے اڈوں کی لڑکیوں کو حدف بنا لیا تکبیر کے شمارہ 14 میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں بااثر زمینداروں اور سرداروں کے زیر سایہ بنگلہ دیشی عورتوں کی خرید فروخت کے بارے میں ایک چشم کشار پورٹ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں شرافت کے لبادے میں چھپے شیطانی چہروں کو بے نقاب کیا گیا تھا اور ایک بنگلہ دیشی بے سہارا خاتون نے جرائم پیشہ افراد کے چنگل سے آزادی دلانے کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے اپیل کی تھی جس پر انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر کے فوری تحقیقات اور عورتوں کی خرید وفروخت میں ملوث افراد کی گرفتاری کا حکم دیا۔وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان مرز امحمد یاسین نے تمام سرکل انچار جوں کو حکم جاری کیا کہ