کافر کون؟

by Other Authors

Page 425 of 524

کافر کون؟ — Page 425

425 جذبات مجروح ہوتے ہیں اور تیسرے یہ کہ قرآن پاک میں جو آیات حضرت محمد صلی یا پریم کی شان میں نازل ہوئی ہیں جیسا کہ یہ آیت بھی ان میں سے ایک ہے اور آپ کے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ یہ سب آیات میری شان میں نازل شدہ ہیں۔تم اس جھوٹے نبی کے پیروکار ہو اور اس آیت کو موٹر سائیکل پر لکھ کر تم رسالت کے منکر ہو چکے ہو۔میرے ان الفاظ پر ان دونوں قادیانی اشخاص نے کہا کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ہم نے یہ آیت لکھی ہے اور لکھتے رہیں گے۔ہم نے پاکستان کے قانون کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔آپ نے جو کرنا ہے کر لیں۔اس کے بعد میں اپنے دوستوں کو وہاں بٹھا کروارہ تھا نہ اطلاع کرنے آیا ہوں کہ آپ ان مجرموں کو گرفتار کریں اور موٹر سائیکل کے میٹر پر قرآن پاک کی آیت تحریر شدہ ہے اس کو اپنی تحویل میں لیں اور دونوں مجرموں کو قانون کے مطابق دفعہ AC295,298 اور C295 تعزیرات پاکستان کے مطابق سزا دلوائیں۔اس کی درخواست پر سنئیر سپر نٹنڈنٹ پولیس لاڑکانہ نے بذریعہ چٹھی نمبر 95۔11۔143554 ، مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر فرمایا۔چنانچہ مورخہ 12 نومبر 1995ء کو دونوں احمدیوں پر مقدمہ کا اندراج ہو گیا۔پولیس نے ظہور احمد کو گرفتار کر لیا اور موٹر سائیکل اپنے قبضہ میں لے لی۔بڑی مشکل سے ان کو رہا کروایا گیا مگر بعد میں جمعیت العلمائے اسلام کے لیڈر مولانا فضل الرحمن کے دباؤ کے نتیجہ میں پولیس نے دونوں احمدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا اور موٹر سائیکل دوبارہ اپنے قبضہ میں لے لی۔یادر ہے کہ ظہور احمد اور نور حسین دونوں سکول ٹیچر ہیں۔سیشن جج سے ان کی ضمانتیں کروانے کی کوشش کی گئی مگر اس نے درخواست ضمانت کو مستر د کر دیا جس کے بعد ضمانت کے حصول کے لئے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا مگر وہاں بھی حکومت نے ضمانت کی سخت مخالفت کی۔مگر آخر کا ر سندھ ہائی کورٹ کے جج نے دونوں احمدیوں کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی اور اس طرح ان دونوں کو تقریباً تین ماہ جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی۔8۔ادھر الفضل انٹر نیشنل 10 ستمبر 1999ء تا 12 ستمبر 1999 ء ) | انسانی اعضاء کی سمگلنگ ، عورتوں کی خرید و فروخت۔۔۔بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال دیئے افغانستان میں انسانی اعضاء کی سمگلنگ کا دھندہ عروج پر راولپنڈی (خبر نگار ) انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق افغانستان میں خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ انسانی اعضاء کی سمگلنگ کا کاروبار عروج پر ہے۔خانہ جنگی میں کیڑوں مکوڑوں کی طرح انسان مر رہے ہیں لوگ پہلے پہل انسانی