کافر کون؟

by Other Authors

Page 417 of 524

کافر کون؟ — Page 417

417 اب شراب خانوں کی کل تعداد 109 ہوگئی ہے جن میں سے 55 کراچی ڈویژن ، 34 حیدر آباد ڈویژن، 6 سکھر ڈویژن اور 14 لاڑکانہ ڈویژن میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے شراب خانوں کے مزید دس لائسنس جاری کئے ہیں جن میں سے آٹھ کر اچی کیلئے ہیں۔مولانا شاہ احمد نورانی نے شاید اس لئے کہا تھا کہ کراچی میں پانی مشکل سے ملتا ہے لیکن شراب آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں جس تیزی سے نئے شراب خانے کھل رہے ہیں ان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت ملک میں شراب کی نہریں جاری کرنا چاہتی ہے۔پچھلے دنوں سینیٹر ڈاکٹر جاوید اقبال نے انکشاف کیا تھا کہ اسلام آباد میں جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتا ہے تو شراب کی قیمتیں تین گنا بڑھ جاتی ہیں جس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اکثر عوامی نمائندے پانی کی جگہ شراب استعمال کرتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگی حکومت اسے شرابا طهورا سمجھ کر عام کرنا چاہتی ہے۔اسلام زندہ باد!! پاکستان میں جب بھی بسنت کا موقع آتا ہے، نئے سال کی رات آتی ہے یا کوئی ایس موقع آتا ہے تو مادر پدر آزاد طبقہ شراب کے پیگ چڑھائے ، غل غپاڑے کرتا ہوا سر عام سڑکوں پر نکل آتا ہے اور یوں تاثر دیتا ہے کہ جیسے یہ بے ہودہ کلچر ہمارے معاشرے کا حصہ ہو۔حالیہ بسنت میں بھی ایک رپورٹ کے مطابق کئی کروڑ روپے کی شراب اڑائی گئی۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں یوں تو اپنے خود ساختہ انسانی حقوق کی معمولی خلاف ورزی پر بھی بڑی چینی چلاتی ہیں لیکن فحاشی، عریانی، زناکاری ، ہم جنس پرستی اور ام الخبائث شراب کے خلاف آج تک انہوں نے ایک دفعہ بھی آواز بلند نہیں کی۔آخر یہ آواز کیوں بلند کریں۔جن آقاؤں سے وہ لاکھوں ڈالر لیتے ہیں، انہوں نے انہیں ایسا کوئی ایجنڈا ہی نہیں دیا۔اور اپنے مغربی آقاؤں کے ایجنڈے کے برعکس چلنے کی وہ ہمت ہی نہیں کر سکتے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان برائیوں کو برائی سمجھتے ہی نہیں۔چنانچہ شراب نوشی اور سگریٹ نوشی ان کی محفلوں کا عام چلن ہے۔اسے وہ اپنا سٹیٹس کو سمجھتے ہیں اور جو یہ سٹیٹس نہ اپنائے ، اسے وہ جاہل، گنوار اور مولوی ملاں کہتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں شراب پر سرکاری پابندی کے باوجوداس مادر پدر آزاد طبقے کو کچھڑ۔اڑانے کیلئے شراب اتنی وافر مقدار میں کہاں سے اور کیسے دستیاب ہو جاتی ہے۔اس مذموم کاروبار کے پس پردہ کون سے سرغنے اور عناصر ہیں۔اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ شراب پر پابندی کے باوجود آئین میں ایک ایسا چور دروازہ باقی رہ گیا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر اندرون خانہ یہ کاروبار پورے طمطراق سے جاری ہے۔یہ چور دروازہ اقلیتوں کے نام پر کھولا گیا۔اقلیتوں کے نام پر شراب کے پرمٹ دیئے گئے۔ضیاء دور میں بظاہر یہ کام