کافر کون؟

by Other Authors

Page 397 of 524

کافر کون؟ — Page 397

397 اچھالنا شروع کر رکھا ہے۔یہ بات محمدی مسجد میں لاؤڈ سپیکروں کے 6 طاقت ور یونٹ اتارنے والے چوروں نے ایک خط میں کہی ، جس میں لکھا ہے کہ اب ہم امید رکھتے ہیں کہ دوسری مساجد کے مولوی صاحبان لاؤڈ سپیکروں کو تنقید کی بجائے تعمیری انداز میں استعمال کر کے لوگوں کو اسلام کے عین مطابق رستہ دکھا ئیں گے بصورت دیگر ہمیں اہل شہر کو دوسرے سپیکروں سے بھی نجات دلانا پڑے گی“۔اس خبر کے ساتھ علامہ اقبال کا یہ شعر ملا لیں تو بات کہاں سے کہاں تک جا پہنچتی ہے: چناں نالیم اندر مسجد شہر که دل در سینہ ملا گدازیم اور یہ اشعار بھی علامہ اقبال ہی کے ہیں: رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے ہے نماز و روزه و قربانی و حج یہ سب باقی ہے تو باقی نہیں کون باقی نہیں؟ میں یا ملاں؟ جبکہ علامہ اقبال سے کہیں پہلے سودا یہ کہہ گیا ہے : شیخ جی کی بانگ وصلوۃ او پر تواے ناصح نہ جا خانہ قصاب میں بھی روز وشب تکبیر ہے جنگ ( لاہور : 8 جنوری 1994ء) کی ”مولویوں کی جنگ“ کی سرخی کے ساتھ طبع ہونے والی یہ خبر بھی ملاحظہ کیجئے: سانگلہ ہل ( نامہ نگار ) گزشتہ روز محلہ اقبال پور میں دو مختلف مسلکوں سے تعلق رکھنے والی مسجد کے خطیبوں میں ٹھن گئی۔مولوی تجمل حسین طاہری نے مختلف گھروں کی چھتوں پر نصب 10 لاؤڈ سپیکر میں دوسرے مولوی سیدامان اللہ بخاری کو چیلنج کیا کہ آؤ مل کر آگ میں بیٹھ جاتے ہیں یا کنویں میں کود جاتے ہیں جو صحیح سلامت رہاوہ سچا ہو گا۔مولوی تجمل حسین نے مباہلہ کے لیے شہر میں اشتہار تقسیم کیے تھے مگر مولا نا امان اللہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔مقامی پولیس نے بروقت مداخلت کر کے گھروں کی چھتوں سے لاؤڈ سپیکر اتر وادیئے شہر میں ناخوشگوار واقع پر تشویش پائی جارہی ہے۔انداز جفا اب لاؤڈ سپیکر کا ذکر چلا ہے تو اس ضمن میں مجھے گنہ گار کوخود کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ اب اس صوتی آلودگی کے خلاف تو وہ حضرات بھی لب کشائی پر مجبور ہو گئے جو ہمارے بر عکس دین کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔روزنامہ جنگ ہمیں اسلام سے خارج کر دیا جائے گا اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو ہم اس عالم کے نز د یک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کی رو سے کا فر ہو جائیں گے۔