کافر کون؟

by Other Authors

Page 350 of 524

کافر کون؟ — Page 350

350 تفسیر نویسی کے نام پر خدا رسول فرشتوں اور دوسرے عقائد کے متعلق عجیب وغریب من گھڑت داستانوں کی بھر مار یہ سب اذیت ناک خبریں میری انگلی مشکل بن گئیں۔موجودہ قرآن ہی۔۔۔خلفاء کا محرف و مبدل کیا ہوا ہے۔۔۔مولانا مقبول حسین دہلوی آغاز ممتاز شیعہ عالم دین ممتاز حسین دہلوی کے ترجمہ سے کرتے ہیں۔دہلوی صاحب کے اس ترجمہ کی 12 شیعہ مجتہدین نے تائید فرمائی ہے۔مولانا سورہ یوسف کی تفسیر و ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن میں ظاہر اعراب لگائے گئے ہیں تو شراب خور خلفاء کی خاطر یغضرون کو عصروں سے بدل کر معنی کو زیر وزبر کیا گیا ہے یا مجہول کو معروف سے بدل کر لوگوں کے لیے انکے کرتوت کی معرفت آسان کر دی ہے۔ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو یہ تغیر یہ لوگ کر دیں تو ہم اس کو اسی حال پر رہنے دو اور تغیر کرنے والے کا عذاب کم نہ کرو۔ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کردو۔قرآن مجید کو اس کی اصلی حالت پر لانا جناب العصر علیہ السلام کا حق ہے اور اُسی کے وقت میں وہ حسب تنزیل تعالیٰ پڑھا جائے گا۔“ (پارہ نمبر 12 سوره یوسف صفحه 479 قرآن مجید مترجم ناشر افتخار بک ڈپو کرش نکر لاہور ) (مندرجہ بالا حوالے کی اصل فوٹوسٹیٹ ماہنامہ خلافت راشدہ نے دسمبر 97 کے شمارے میں صفحہ 4 پر شائع کی) موجوده قرآن مجید میں تو کئی الفاظ غلط اعراب کے ساتھ ہیں۔عالی جاہ نواب رضا خان عالی جاہ جناب نواب علی رضا خاں صاحب قزلباش سابقہ تعلقہ دار نواب گنج علی آبادی ضلع بہرائچ (اودھ ہند ) نے الف لام میم نامی اپنے رسالے میں قرآن مجید کی اعرابی اور تفسیری بزعم خود غلطیاں نکالی ہیں۔جو ان کے خیال میں جمہور مسلمانوں میں آل محمد کی شان کم کرنے کے لیے کی ہیں صفحہ 4 پر فرماتے ہیں: ایک بڑی صاف اور آیہ مبین ملاحظہ ہو سلام علی ال یاسین۔۔۔جہاں بہت سے اختلاف ہو سکتے ہیں وہاں یہ ان کا سین کا عجوبہ بھی ہے جس میں اگر الف پر کھڑا الف لگا دیا جائے اور لام کے جزم کوزیر میں تبدیل کر دیا جائے تو آل یاسین ہو کر املا بھی صحیح ہو جائے اور معنی میں تو وہ حسن پیدا ہو کہ دشمن آل محمد بھی ان کا کلمہ پڑھے۔(صفحہ 4-7 مینجر کتب خانه مطبع یوسفی نسبت روڈ لاہور انصاف پریس لاہور ) قرآن مجید کے الفاظ کی یہ خدمت دیکھنے کے بعد ترجمہ و تفسیر کے میدان کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا کیا سجود نیاز لٹائے جارہے ہیں۔جو ہمارے چند تراجم ہیں وہ بھی غلطیوں سے پر ہیں جو چند ایک تراجم مارکیٹ میں دستیاب ہیں ان کے متعلق سرکاری طور پر اعلان کیا ہیں۔روزنامہ نوائے وقت