کافر کون؟ — Page 324
324 کر سکتا اور ایک تیسرا اسلام ہے جو حضرات اہل بیت کرام کے لکڑی اور کاغذ کے تعزیوں کے ساتھ بندھا ہوا کوچہ و بازار میں سالانہ گردش کرتا نظر آتا ہے۔ایک چوتھا اسلام وہ ہے جو استخواں فروش مجاہدوں اور پیرزادوں کے حلقے میں ہوحق کے نعرے لگانے اور حال و قال کی بزم آرائی کے لیے مجبور ہے۔9 دسمبر 1949ء دو اسلام صفحہ 27 کتاب منزل لاہور ) کہاں کے مسلمان اور کدھر کے مسلمان؟ سید عطاء اللہ شاہ بخاری بخاری صاحب 9 دسمبر 1949ء کو علماء کرام اور مسلمان معاشرہ کی یہ تصویر کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں : یہ اسلام جو تم نے اختیار کر رکھا ہے کیا یہی اسلام ہے جو نبی نے سکھلایا تھا؟ کیا ہماری رفتار و گفتار کردار میں و ہی دین ہے جو خدا نے نازل کیا تھا؟ یہ روزے اور نمازیں جو ہم میں سے بعض پڑھتے ہیں اس کے پڑھنے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔جو مصلے پر کھڑا ہے وہ قرآن سنانا نہیں جانتا اور جو سنتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ کیا سن رہے ہیں اور باقی 23 گھنٹے ہم کیا کرتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ گورنری سے لیکر گداگری تک مجھے ایک ہی بات بتلاؤ جو قرآن اور اسلام کے مطابق ہو پھر میں کمیونزم سے کیوں لڑوں؟ ہمارا نظام کفر ہے قرآن کے مقابلے میں ہم نے ابلیس کے دامن میں پناہ لے رکھی ہے قرآن صرف تعویذ اور قسم کھانے کے لیے ہے۔3 ستمبر 1974ء دنیا کی وہ کونسی برائی ہے جو ہم میں نہیں۔امام کعبہ احراری اخبار آزاد 9 دسمبر 1949 ء ) مسجد الحرام کے خطیب الشیخ محمد بن سبیل نے بیت اللہ شریف کے سایہ میں کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے تمام عالم اسلام کی اخلاقی حالت کی یہ تصویر بنائی ہے: آج اکثر بلاد اسلامیہ کے مسلمانوں کی کیفیت سخت الم انگیز ہے مسلمان آنحضرت اور صحابہ کی روش کا مخالف ہو چکا ہے۔کیا اکثر مسلمان ممالک میں ہمیں ایسے لوگ نظر نہیں آتے جو اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور ا ور اپنے تئیں مسلم کہتے ہیں اور بائیں ہمہ ان کا اسلام انہیں بڑے بڑے جرائم سے نہیں روکتا۔ان کا اسلام انہیں سود اور لوگوں کے اموال کھانے اور فجور سے نہیں روکتا ان کا اسلام انہیں کذب بیانی اور جھوٹی گواہی سے نہیں روکتا اور نہ ہی رقص گاہوں اور شراب خانوں سے منع کرتا ہے۔نہ اُن کا اسلام انہیں مسلمانوں کے معاملات میں دھوکا چالبازی اور فریب دہی سے باز رکھتا ہے۔نہ ان کا اسلام انہیں نماز وروزہ کے چھوڑنے سے روکتا ہے۔وہ حق کو نفرت انگیز