کافر کون؟ — Page 244
244 حضرت علامہ فخر الدین رازی مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت میں مفتری کی حالت تمثیلا بیان کی ہے کہ اس سے وہی سلوک ہوگا جو بادشاہ ایسے شخص سے کرتے ہیں جوان پر جھوٹ باندھتا ہے وہ اس کو مہلت نہیں دیتے بلکہ فی الفور قتل کر وا دیتے ہیں۔( یہی حال مفتری علی اللہ کا ہوتا ہے) اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ایسا ہونا ضروری اور واجب ہے تا کہ صادق و کاذب کے حالات مشتبہ نہ ہو جائیں۔( تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 205 206 مطبع میمنیہ ) 2۔اگر آپ سالی کی یہ بھی اللہ پر جھوٹ باندھتے تو اللہ تعالیٰ ان کی بھی شاہ رگ کاٹ دیتا اور مہلت نہ دیتا۔امام ابو جعفر طبری اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: اگر آنحضرت نے ہم پر افترا باندھا ہوتا تو ہم اس سے سخت گرفت کرتے اور پھر اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے۔یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو جلد سزا دیتا اور اتنی مہلت نہ دیتا۔( تفسیر ابن جریر جلد 29 صفحہ 42 مطبوعہ مصر ) 3۔اگر کوئی مدعی افتراء باند ھے تو خدا انتقام لیتے ہوئے جلد قتل کر دے گا۔علامہ زمخشری تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں : اگر یہ مدعی ہم پر افتراء کرتا تو ہم اس سے جلد انتقام لیتے اور ان کو قتل کر دیتے جیسا کہ بادشاہ ان کے ساتھ کرتے ہیں جوان پر جھوٹ باندھتے ہیں“۔( تفسیر کشاف صفحه 1524 مطبوعہ کلکتہ ) 4۔اگر کوئی مدعی افتراء باندھے تو خدا اسے فور اقتل کر دے گا۔۔۔۔علامہ شیخ احمد ماوی اگر یہ ہم پر جھوٹ باندھتا تو ہم اس کو فوراً مروا دیتے“ 5۔اگر رسول بھی افتراء باندھتا تو خدا جلد سزا دے دیتا۔۔۔تفسیر ابن کثیر تفسیر ماوی علی الجلالین صفحہ 238 جلد (4) اگر یہ رسول اپنے پاس سے ایک بات بنا کر ہماری طرف منسوب کر دیتا تو ہم اس کو جلد سزا دیتے“۔(ابن کثیر جلد 10 صفحہ 71 برحاشیہ فتح البیان ) 6۔جب اللہ آپ کو وعید سنارہا ہے تو دوسرا کوئی مفتری خدا کے عذاب قتل سے کیونکر بچ سکتا ہے۔۔۔تفسیر البیان اس آیت (ولو تقول) میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت سلایا کہ تم اگر کوئی بات اپنے پاس سے کہہ دیتے یاوحی میں کمی و بیشی کر دیتے تو اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دیتا۔آنحضرت صلی اینم با وجود یہ کہ اللہ کے ہاں سب سے اکرم ہیں جب آپ کا یہ حال ہے تو دوسرا مفتری کیونکر بیچ سکتا ہے۔