کافر کون؟

by Other Authors

Page 166 of 524

کافر کون؟ — Page 166

166 کفار مکہ جزیرہ عرب کے مشرکین اور دور جاہلیت کے بت پرست بھی ان سے زیادہ فاسد اور ر ڈی عقیدہ والے نہیں تھے“۔جماعت اسلامی اور مجلس احرار کے اتحاد کی کوشش (البریلویۃ صفحہ 65) 1953ء کے عظیم ہنگاموں میں جماعت اسلامی اور مجلس احرار نے مل کر جماعت احمدیہ کے خلاف مظالم ڈھائے اور یوں مولانا مودودی صاحب امیر جماعت اسلامی اور عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر جماعت احرار ملی وحدت اور سالمیت کے علمبرادر بن کر ابھرے۔مگر جب یہ ہنگا مے ختم ہو گئے اس کے بعد وحدت اور سالمیت کے یہ علمبر دار کہاں کھڑے تھے وہ اندازہ آپ کو درج ذیل بیانات پڑھ کر کافی وشافی ہو جائے گا۔احراری تحریک تحفظ ختم نبوت کے لیے نہیں نام اور سہرے کے لیے تھی۔مودودی صاحب۔۔۔۔کے نزدیک احرار کا اصل چہرہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں بلکہ نام اور سہرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان و مال کو اپنی اغراض کے لیے جوئے کے داؤں پر لگانا چاہتے ہیں۔اپنی اغراض کے لیے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے جو مسلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کریں اللہ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے“۔(روز نامہ تسنیم لاہور 2 جولائی 1955 ء ) میں مودودی نہیں کہ بددیانت ہو جاؤں اس سے تو کافر اچھا۔۔۔۔۔عطاء اللہ بخاری صاحب کے نزدیک مودودی صاحب کا اصل چہرہ میں مودودی نہیں کہ بددیانت ہو جاؤں۔۔۔آج وہ (مودودی) کہتے ہیں کہ میں تحریک ختم نبوت میں شامل نہیں تھا۔میں کہتا ہوں شامل تھا۔اگر مودودی شامل نہیں تھا تو میں ان سے حلفیہ بیان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ لڑکوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر اعلان کریں کہ میں شامل نہیں تھا۔کیا کروں علم اور ادب کو میرا کلیجہ پھتا ہے ارے تم سے تو کا فرکیلیو ہی اچھا تھا جس نے زہر کا پیالہ پی لیا“۔(حیات امیر شریعت مطبوعہ 1969 ء ) ( بحوالہ فکر اقبال اور تحریک احمدیہ صفحہ 332 ) اہل حدیث اور اہل تشیع کے اتحاد کی کوشش 1982ء میں تہران میں عالمی سیرت کانفرنس میں اہل تشیع اور دوسرے فرقوں کے اتحاد کا موضوع بھی زیر بحث