کافر کون؟

by Other Authors

Page 120 of 524

کافر کون؟ — Page 120

120 میدان سے ہٹ کر سیاست کی راہ سے فرنگی سیاست کے شاہکار پر حملہ آور ہو گئے۔“ ( اخبار آزاد 30 اپریل 1951 صفحہ 17 علمی بحث و نظر کے میدان سے ہٹ کر سیاست کی راہ سے حملہ ہی میری انیسویں مشکل بن گیا ہے۔مشکل نمبر 20 ختم نبوت کا نیا سرکاری اور دفتری امور کے لئے مذہبی مفہوم وہ شخص جو دین کو سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ بناتا ہے وہ میرے نزدیک لعنتی ہے۔ڈاکٹر علامہ اقبال کا فتویٰ ( زنده رود صفحه 649) سیاسی حملہ کے سیاسی پروگرام میں ختم نبوت کی بھی ایک نئی اور سیاسی تعریف تیار کئی گئی یوں قانون پاکستان میں دفعہ نمبر 260 میں ایک نئی شق نمبر 2 کے نام سے اضافہ کر دیا گیا جسے عرف عام میں آئین کی تیسری ترمیم کا نام دیا گیا ہے۔نظریہ ضرورت کے تحت مذکورہ ترمیم کے ذریعہ ختم نبوت کی مندرجہ ذیل سیاسی تعریف منصہ شہود پر لائی گئی۔کوئی شخص جو محمد مصطفی سلاا اینم کی کامل اور غیر مشروط اختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو۔جو خدا کے آخری نبی یا لفظ نبی کے کسی معنی یا تعریف کے مطابق حضرت محمد مصطفی سالی یا ایام کے بعد نبی ہونے کا دعوی کرے یا کسی مدعی نبوت کو تسلیم کرے یا مذہبی مصلح مانے وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے لئے مسلمان نہیں ہے“۔کیا معلوم ہوا یہی ناں کہ آنحضور صلی یا ایام کے بعد کسی بھی معنوں میں یا کسی بھی مفہوم میں کسی بھی پیرائے میں کسی بھی تعریف کے مطابق کوئی بھی نبی نہیں ہے۔لا نہ امتی نبی لانہ تابع نبی انہ ریٹائرڈ نبی انہ معزول نبی یہی نہیں بلکہ کوئی مذہبی مصلح ہونے کا دعوی بھی نہیں کر سکتا اور جو ایسی گستاخی کرئے وہ قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج یہ سیاسی تعریف ہی میری بیسویں مشکل بن گئی۔