کافر کون؟ — Page 118
118 مسئلہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ بعینہ تشریف لائیں گے اور فوت ہو گئے ہیں تو کوئی معنوی طور پر آئے گا۔مگر کردار پلٹ دیئے گئے منکرین حیات مسیح فی السماء کومنکرین ختم نبوت کا نام دے دیا گیا۔حامیان فیضان نبوت کو گستاخ رسول اور منکرین لا نبی بعدی بنادیا گیا۔اگر آمد امام مہدی ہوگی (ویسے تو تیسری ترمیم کی تو موجودگی میں ہمیں ضرورت نہیں ) تو ایک جدید لیڈر کی صورت میں ہوگی جسے خود بھی نہ پتہ ہو گا کہ وہ امام مہدی ہے اور یوں کہانی کا عنوان محافظین ختم نبوت اور منکرین ختم نبوت قرار پا گیا۔اس طرح وفات و حیات مسیح" سے شروع ہونے والی کہانی تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر آئی اور پھر قومی اسمبلی کی طرف موڑ دی گئی۔اس ہاری ہوئی کہانی کا حال ایک دیو بندی مولانا کی زبانی سننا ہی میری انگلی مشکل بن گیا۔مشکل نمبر 18 ہمارے شدید مقابلے کے باوجود قادیانیت مستحکم اور وسیع ہوگئی جماعت احمدیہ کے شدید مخالف عالم مولانا عبدالرحیم صاحب اشرف مدیر المنیر لائل پور کی زبانی ان لمحوں کی کہانی سنیے۔ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع تر ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا ان میں اکثر تقویٰ ، تعلق باللہ، دیانت، خلوص، علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شی رکھتے تھے۔شخصیتیں سید نذیر حسین دہلوی ، مولانا انور شاہ دیوبندی ، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری، مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا عبدالجبار غزنوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکا بر رحمہم اللہ وغفر لہم کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر ورسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم اشخاص ایسے ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔اگر چہ یہ الفاظ سنے اور پڑھنے والوں کے لیے تکلیف دہ ہوں گے۔لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر (نور الله مراقدهم ومضاجعهم ) کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔وہاں ان کے کام کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس، امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنس دان ربوہ آتے ہیں۔۔۔اور دوسری