جوئے شیریں — Page 75
<4 اپنے ہیں میں اپنی بستی میں اک پینا بھی توگھر تھا اپنے دیس میں اپنی بستی میں راک اپنا بھی تو گھر تھا جیسی شندر تھی وہ بستی دیا وہ گھر بھی مندر تھا دیس بدیس لئے پھرتا ہوں اپنے دل میں اُس کی گتھا ئیں می کے کئی میں آن بسی ہے تن من دھن میں کے اندر تھا سادہ اور غریب تھی جنتا۔لیکن نیک نصیب تھی جفتا فیض رسان عجیب تھی بنتا۔ہر بندہ بندہ پرور تھا ہر کتنے لوگ تھے ، پتی بستی۔کرموں والی اپنی بستی جو اُونچا تھا۔نیچا بھی تھا۔عرش نشیں تھا خاک کبر تھا اس کی دھرتی تھی آکاشی۔اس کی پر جا تھی پر کاشی جس کی صدیاں تھیں متلاشی۔گلی گلی کا وہ منظر تھا کرتے تھے آآ کے بیرے۔پنکھ پکھیرو شام سویرے پھولوں اور پھلوں سے بوجھل۔بستاں کا ایک ایک شجر تھا اُس کے سُروں کا چرچا جاتا۔دیس بدیس میں ڈنکا با جا اس بستی کا پیتیم راجا پریشن گفتیا مرلی دھر تھا۔