جوئے شیریں — Page 72
دیر اگر ہو تو اندھیر ہرگز نہیں، قولِ أُمَلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِيْن سنت اللہ ہے۔لا جرم پائی ہیں، بات ایسی نہیں جو بدل جائے گی یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا ، پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا تیری آواز اسے ڈش یک نوار اور قدم دھر دو تین میل جائے گی عصیر بیمار کا ہے مرض لا دوا ، کوئی چارہ نہیں اب دُعا کے سوا اے غلام سیخ الاماں ہاتھ اُٹھا، موت بھی آگئی ہو تو ٹل جائے گی الفضل کے صد سالہ میں تشکر نمبر کے لیے ہم آن ملیں گے متوالو۔بس دیر ہے گل یا پرسوں کی تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔دید کے ترنسوں کی ہم آمنے سامنے بیٹھیں گے۔تو فرط طرب سے دونوں کی آنکھیں ساون برسائیں گی۔اور پیاس بجھے گی برسوں کی تم دور دور کے دیسوں سے۔جب قافلہ قافلہ آؤ گے تو میکر دل کے کھیتوں میں بھولیں گی فصلیں سرسوں کی یشق و وفا کے کھیت رضا کے خوشوں سے کر جائیں گے موستم بدلیں گے۔رُت آئے گی ساجن، پیار کے درسوں کی