جوئے شیریں

by Other Authors

Page 56 of 107

جوئے شیریں — Page 56

04 خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بدلہ میں کبھی طالب انعام نہ ہو دل میں ہو اور تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہو مغز فقط نام نہ ہو عقل کو دین پر حاکم نہ بتاؤ ہرگز یہ تو خود اندھی ہے گر تیر الہام نہ ہو رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزه نظر انداز کوئی حقہ احکام نہ ہو پاس ہو مال تو دو اس سے زکواۃ و صدقہ فکر مسکیسی رہے تم کو نسیم ایام نہ ہو عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو دشمنی ہو نہ محبان محتد سے تمہیں جو معاندہ میں تمہیں ان سے کوئی کام نہ ہو