جوئے شیریں — Page 37
۳۷ بارگاہ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو مشکلیں کیا چیز ہیں مشکلکشا کے سامنے حاجتیں پوری کرینگے کیا تری عاجز بشر کہ یہاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے چاہیے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش روئی سر ٹھیکا میں مالک ارض و سما کے سامنے چاہیے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار ایک دن جاتا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے راستی کے سامنے کی جھوٹ پھلتا ہے بھلا قدر کیا پتھر کی تعمیل بے بہا کے سامنے