جوئے شیریں

by Other Authors

Page 36 of 107

جوئے شیریں — Page 36

I یہ میسر رب سے میر لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوئی یہ مہر الا ہے می مسیح ہونے پر یہ اک دلیل ہے میکر لئے یہ شاہد رب جلیل ہے پھر میرے بعد اوروں کی ہے انتظار کیا تو بہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا مشکلیں کیا چیز ہی مشکلکشا کے سامنے اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے چھوڑنی ہوگی تجھے دنیائے فانی ایک دن ہر کوئی مجبور ہے حکم خدا کے سامنے مستقل رہنا ہے لازم کے بشر تحیہ کو سدا رنج و غم یاس والم فکر دبا کے سامنے