جوئے شیریں — Page 25
ایل وقار ہوویں ، فخر دیا نہ ہوویں حق پر نثار ہو دیں مولیٰ کے یار ہوویں با برگ و بار ہو دیں اک سے ہزار ہوویں یہ روز کر مبارک سُلْمَانَ مَنْ يراني عیاں کر ان کی پیشانی پر اقبال بچانا ان کو پرنم سے بہر حال نہ آئے ان کے گھر تک رعب دبال نہ ہوں وہ دُکھ میں اور رنجوں میں پلال یہی امید ہے دل نے بتادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَمَادِي نجات ان کو عطا کر گندگی سے سمات ان کو عطا کر بندگی سے رہیں خوشحال اور فرخندگی سے بچانا اے خدا به زندگی سے