جوئے شیریں — Page 49
3۔سر وقف خیالِ یار از لی دل ٹو پر وفا سے مہر تاباں آنکھوں میں حیا پک رہی ہو منہ حکمت و نسل سے ڈر افشاں فکروں سے خُدا اسے بچائے پیدا کرے مومی کے ساماں ہو دونوں جہان میں معزز ہوں چھوٹے بڑے سبھی ثنا خواں مرضی ہو خدا کی اس کی مرضی مولیٰ کی رضا کی ہو یہ جو یاں سب عمر بسر ہو رتقا میں ہر لحظہ رہے یہ زیر بشر ماں امین کہیں میری دعا پر بیٹے ہیں تمام لوگ جو مولیٰ سے دُعا ہے پیاری بہنو ! تم کو بھی دکھائے وہ یہ خوشیاں