جوئے شیریں

by Other Authors

Page 74 of 107

جوئے شیریں — Page 74

کبھی ٹھہرو تو مثل ابر بہار جب برس جائے فیض عام - پلو رات جاگو کہ و نجوم کے ساتھ دن کو سورج سے ہم خیرام چلو ہو تہی کل کے قافلہ سالار آج بھی ہو تمہی امام جیلو تم سے وابستہ ہے جہانِ تو تمہیں سونپی گئی زمام۔چلو آگے بڑھ کر تقدم تو لو۔دیکھو عہد تو ہے تمہارے نام۔چلو پیشوائی کرو۔تمھاری طرف آ رہا ہے نیا نظام چلو اسے خوش۔دل تیار - دست بکار یہ پیارو خدا کے پیاروں پر پہر در پہر شاد کام چلو دائم بھیجتے سلام چلو زیرو ٹیم میں دلوں کی دھڑکن کے موجزن ہو خدا کا نام۔چلو دل سے اُٹھے جو نعرہ تکبیر ہو کرتا سے ہمکلام۔چلو غم دنیا کی ہے دوا غم عشق دم عیسی نہیں۔ہوا دیم عشق بخیر عالم میں اک بپا کر دو پیار کا غلغلہ - تلاطم عشق