جوئے شیریں

by Other Authors

Page 102 of 107

جوئے شیریں — Page 102

١٠٣ تھا کیمی جو تارک فرض شنی اب وہ پابند نواخل ہو گیا اب دعائیں بھی لگیں ہونے قبول فضل رتی جسے شامل ہو گیا حب قرآن عشق ختم المرسلیں ہر رگ و ریشہ میں داخل ہوگیا خاتمہ بالخیر کر دے اب خدا راستہ سیدھا تو حاصل ہو گیا طیبہ کی آمین طیبہ جی نے پڑھ لیا قرآں ہے یہ اللہ کا بڑا احسان اے خدا اے رحیم اے رحماں کی قدر میں کم ترے ہر آن قدر آں تو نے توفیق اور تمت دی اور پڑھنے کے سب دیئے ساماں یا تو پڑھتی تھی کل الف بے تے یا شنا آج ختم ہے قرآں جس طرح تو تے لفظ سکھلا کر کر دیا ہم کو خرم و شاداں میں سکھا دے اسی طرح یارب ترجمہ اور مطالب فرقان قلب میں طیبہ کے بھر دے تو نور فنر قال حلاوتِ ایماں کھول دے اس کے بھائی بہنوں پر راه مهر و محبت و عرفان