جذبۃ الحق — Page 4
جمعہ تھا۔وکیل صاحب کے نام مفت بھیج دیا۔وہ رسالہ حضرت خلیفہ اول جناب مولانا نورالدین صاحب مرحوم و مغفور کا لکھا ہوا تھا۔وکیل صاحب اس رسالے کو پڑھ کر چونکہ کچھ بھی نہ سمجھ سکے اس وجہ سے میرے پاس لے آئے اور کہنے لگے ذرا اسے دیکھئے تو سہی شاید وہاں ( لاہور میں کوئی نیا فرقہ نکلا ہے۔ہم اس رسالے کو حکیم صاحب کے پاس واپس بھیج دیں گے۔ہم کو اس بکھیڑے سے کچھ کام نہیں ہے۔میں نے کہا واپس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم اس کی حقیقت دریافت کریں گے۔اور رد لکھیں گے۔پس وکیل صاحب وہ رسالہ مجھ کو دے کر چلے گئے میں نے اول سے آخر تک اسے پڑھا۔لیکن وہ رسالہ چونکہ طرز جدید پر لکھا گیا تھا۔اس لئے کچھ بھی لطف نہ آیا۔بلکہ بالکل فضول سا معلوم ہوا۔کیونکہ جس طریق پر وہ لکھا گیا تھا ہم اس سے مانوس نہ تھے۔اس میں یکا یک میری نظر اس رسالے کے ٹائٹل پیج پر پڑی جہاں لکھا ہوا تھا کہ اس رسالے کے مصنف کی علمیت کے قائل صرف ہندوستان ہی کے علماء نہیں ہیں بلکہ عرب و مصر شام و غیر ہم کے علماء بھی ہیں۔اس نوٹ کو پڑھ کر میرا یہ خیال کہ عوام الناس جاہلوں کا کوئی فرقہ ہو گا ٹوٹ گیا۔اور حقیقت دریافت کرنے کی طرف مجھے بڑی توجہ ہو گئی۔آخرش میں نے وکیل صاحب کی طرف سے حکیم صاحب کو ایک پوسٹ کارڈ لکھا۔اس کا مضمون تھا کہ جن امام کے آپ معقد ہوئے ہیں۔ان کے کچھ حالات لکھیں۔اور ان کی لکھی ہوئی کچھ کتابیں بھی ارسال فرما دیں۔تاکہ ہم لوگ بھی ان کے فیض سے مستفیض ہو سکیں اسی اثناء میں اتفاقا خود وکیل صاحب بھی آگئے اور یہ دیکھ کر کہ میں نے ان کی طرف سے حکیم صاحب کو ایک پوسٹ کارڈ لکھا۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ حکیم صاحب کتابوں کا کوئی وی پی بھیج دیں۔یہ بھی لکھ دینا چاہئے کہ جو کچھ