جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 31 of 63

جذبۃ الحق — Page 31

31 یا مقام زم میں لیکن ٹونکی مولوی صاحب نے اس سوال کے جواب سے پہلوتی کی۔اور صرف لفظ خاتم النبیین کولے بیٹھے اور خاتم النبین کو بار بار خاتم النبیین کہتے رہے۔میں نے کہا کہ حرف "ت " کو زبر کے ساتھ ادا کیجئے۔انہوں نے کہا کہ زیر سے بھی آیا ہے اور زیر سے بھی آیا ہے۔اور دونوں کے ایک ہی معنی ہیں میں نے کہا کہ ہو مگر آپ جس مصحف مجید میں تلاوت کرتے ہیں اس میں کیا لکھا ہے زبر سے یا زیر سے۔تب انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ وہاں زہر سے ہی لکھا ہے اور میں نے پوچھا کہ لفظ خاتم کے معنی مر کے ہیں یا نہیں تو انہوں نے اس کو بھی تسلیم کیا۔اور باوجود ان دونوں اقراروں کے لفظ خاتم النبین کے معنی اخیر نبی کرنے لگے۔میں نے کہا ان الفاظ کے معنی آپ نے جو آخر الانبیاء کئے ہیں اس کی کوئی دوسری نظیر کلام مستند عرب سے آپ دکھا سکتے ہیں اس کا تو کچھ جو اب انہوں نے نہ دیا اور جھٹ کردیا کہ حدیث شریف میں تو صاف لانبی بعدی آگیا ہے میں نے کہا کہ اس کے آپ کیا معنی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے معنی تو بہت ہی واضح ہیں۔اسم نکرہ تحت میں لائے نفی جنس کے جب واقع ہے تب ضرور نفی استغراقی کے معنے ہوں گے۔میں نے کہا کہ احادیث میں اس قسم کی ترکیبیں کثرت سے واقع ہیں اور ہر جگہ نفی استغراقی کے معنی بن نہیں سکتے۔چنانچہ ایک حدیث اس طرح مروی ہے کہ لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَA LANGUAGE ANAL NAWA یعنی جس میں امانت نہیں اس کا کچھ ایمان نہیں اور جس میں وفائے عہد و پیمان یعنی قول و قرار نہیں اس کا کوئی دین نہیں ہے۔انتہی دیکھئے ان دونوں فقروں میں اسم نکرہ تحت میں لائے نفی جنس کے واقع ہے اور نفی استغراقی بن نہیں سکتا۔کیونکہ اگر یہاں نفی استغراقی معنی کئے جائیں تو