جذبۃ الحق — Page 30
30 میرے لئے چھوڑ کر اپنی جان بچالے گئے۔اب میں نے پھر ملتی ٹو کی صاحب سے پوچھا کہ اچھا جناب حیات و وفات عیسی علیہ السلام میں آپ کی کیا رائے ہے اس کا کچھ جواب نہ دے کر وہ جھٹ بول اٹھے کہ عیسی علیہ السلام کی وفات بھی اگر ثابت ہو جاوے تو مرزا صاحب کو اس سے کیا فائدہ۔اصل کلام تو ان کی نبوت میں ہے میں نے کہا کہ مرزا صاحب جس قسم کی نبوت کا دعوی کرتے ہیں اس میں تو میں کچھ قباحت نہیں دیکھتا کیونکہ ان کا دعوی نبوت غیر تشریعی و علی کا ہے اس کی امتناع پر کوئی شرعی دلیل پیش نہیں کی جاتی۔اور اکابر علمائے کرام نے بھی اس کے جواز کا اقرار کیا ہے۔مثلا شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں اور امام شعرانی نے الیواقیت والجواہر میں۔اور ملا علی قاری نے موضوعات کبیر میں۔اور شیخ محمد طاہر حنفی نے مجمع البحار میں۔ٹونکی مولوی صاحب نے کہا کہ اس کے امتناع پر قرآن و حدیث میں دلائل قاطعہ موجود ہیں جن سے ہر قسم کی نبوت کا امتناع بعد آنحضرت صلعم کے ثابت ہوتا ہے میں نے کہا کہ اچھا پہلے قرآن کریم سے دیکھا جائے کہ کون سی آیت ایسی ہے جس سے ہر یک قسم کی نبوت کا امتناع بعد آنحضرت صلعم کے ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے یہ مشہور و مذکور آیت پڑھ دی۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين يعنی نہیں ہے محمد باپ کسی کا مردوں سے تمہارے لیکن رسول ہے اللہ کا اور خاتم یعنی مہر ہے نبیوں کا۔میں نے کہا کہ یہ آیت تو بی بی زینب کے نکاح کے بارے میں ہے انہوں نے کہا ہاں۔پس میں نے پوچھا۔کہ اس آیت میں لفظ لکن جو کلمہ استدراک ہے اس کی وجہ استدراک کیا ہے اور لفظ رسول الله اور لفظ خاتم النبیین کی صلف کی کیفیت کیا ہے اور یہ دونوں معطوف اور معطوف علیہ مقام مدح میں واقع میں