جذبۃ الحق — Page 55
55 کہنے لگا کہ میں نے " اشاعۃ السنہ" کی تین جلد میں جو آپ کو دی تھیں وہ واپس کر دیجئے۔میں نے کہا کہ آپ نے تو وہ جلد میں مجھے ہبہ کردی ہیں۔مولوی بٹالوی نے کہا۔کہ میں آپ کو ایسا نہ سمجھتا تھا۔میں نے کہا کہ آپ تو اہل حدیث کہلاتے ہیں۔اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ الرَّاحِعُ فِي هَبَتِهِ كا الراجع في قينه۔پس جب تک آپ صحیح حدیثوں سے جہہ سے رجوع ا نہ کریں گے میں ہر گز کتابیں واپس نہ دوں گا۔اتنے میں کرنے کا جواز گاڑی آگئی اور ہم سب عجلت کے ساتھ گاڑی پر سوار ہو گئے۔اور مولوی محمد حسین اپنے مکان کی طرف سدھارے۔فی الواقع وہ موقع بھی ایسا نہ تھا کہ اشاعۃ السنہ" کی وہ جلدیں اس وقت انہیں واپس کی جائیں کیونکہ اسباب ہمارے بالکل بندھے ہوئے تھے۔اور ریل گاڑی کی آمد آمد تھی۔ایسے وقت میں اسباب کا کھولنا اور کتابیں نکالنا مشکل تھا۔اگر ممکن ہو تا تو میں ضرور کتابیں واپس کر دیتا۔الفرض بٹالہ سے روانہ ہو کر لاہور پہنچا وہاں احمدیہ بلڈنگس میں جا اترا میرزا یعقوب بیگ اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بڑی خاطر تواضع کی۔اور نہایت پر تکلف کھانے کھلائے وہ زمانہ خلیفہ اول کا تھا اور میرے قادیان میں قیام کے زمانہ میں یہ لوگ ایک مرتبہ قادیان بھی گئے تھے اور وہیں ان سے روشناس ہوئی تھی اس وقت یہ لوگ غیر مبائع اور علیحدہ فریق نہ تھے۔دوسرے دن خبر پاتے ہی جناب حکیم محمد حسین صاحب قریشی بھی آگئے۔ان کی ملاقات سے بہت ہی فرحت و خرمی حاصل ہوئی۔کیونکہ آدمی بہت ہی عمدہ ہیں اور انہی کے ذریعہ اولاً مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خبر پہنچی تھی۔جیسا کہ اوائل رسالہ میں اس کا ذکر آچکا ہے میرے لاہور قیام تک