جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 56 of 63

جذبۃ الحق — Page 56

56 حکیم صاحب اکثر میرے ساتھ رہے۔اور جب میرے پاس آتے۔تو کچھ نہ کچھ ناشتہ مقسم مٹھائی اپنے ساتھ لاتے۔اور ایک دن پر تکلف دعوت بھی کی۔شہر لاہور کی سیر بھی کرائی اور تماشے دکھائے۔بالآخر لا ہور سے روانہ ہو کر ہم کلکتہ لاہور واپس پہنچے چونکہ کلکتہ پہنچنے کے بعد مجھے بخار آگیا تھا۔اس لئے کئی دن وہاں ٹھہرنا پڑا بعد افاقہ کے کلکتہ سے روانہ ہو کر اپنے وطن برہمن بڑیہ پہنچا۔اور سنت اللہ کے مطابق اہل وطن مریدین و معتقدین میں مخالفت شروع ہوئی جس جس کو اللہ تعالٰی نے ہدایت کی وہ بیعت کر کے سلسلہ حقہ میں داخل ہوا۔جس سے تقریباً ہزار آدمی یہاں احمدی ہو گئے۔رہا مخالفین کی مخالفت اس کی تفصیل بہت ہی طویل ہے۔جس کے لئے علیحدہ رسالہ کی ضرورت ہے۔هَذَا مَا اَردُنَا إِبْرَادَةَ فِي هَذَا الْمَقَامِ وَعَلَى اللهِ التَّوَكَّلُ وَبِهِ الْاِعْتِصَامُ وَصَلَّى الله عَلَى مُحَمَّدٍ سَيّدِ الْأَنَامِ وَالِهِ الْعِظَامِ وَأَصْحَابِهِ الْكِرَامِ۔دو خطوط واجب الاشاعت برادران! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکات۔اس رسالہ جذبه الحق کے کچھ صفحے چھپ جانے کے بعد اس کے مصنف میرے والد ماجد حضرت مولانا سید محمد عبد الواحد صاحب بتاریخ ۴ ماه رمضان المبارک ۱۳۴۴ھ جمعرات کی شام کو 9 بجکر ۲۳ منٹ پر ۷۳ برس کی عمر میں دار فانی سے سرائے جاودانی کی طرف رحلت کر کے اپنے مولا سے جائے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ والد مرحوم کی وفات کے بعد اس رسالہ کا بقیہ حصہ چھپنے لگا۔تب میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ دو خطوط جو