جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 50 of 63

جذبۃ الحق — Page 50

50 تکفیر باز مولویوں کی مہریں اس پر ثبت کرا کر اسے چھپوایا تھا۔اس کا ایک نسخہ مجھے مطلوب تھا اور دوسرا مطلب یہ تھا کہ حضرت صاحب کی کتاب براہین احمدیہ پر انہوں نے جو ریو یو اس وقت لکھا تھا۔جبکہ وہ حضرت صاحب کے مطبع تھے اس کا بھی ایک نسخہ مجھے مل جائے لیکن مولوی صاحب بٹالوی نے یہ عذر کیا کہ ان دونوں کا فقط ایک ایک نسخہ ان کے پاس ہے زیادہ نہیں ہے اس لئے پڑھ کر پھر واپس کرنا ہو گا۔اس کے بعد سویاں اور دودھ چینی مجھے اور مولوی امداد علی کو جو میرے ساتھ تھے کھلایا اور کہنے لگے کہ قورمہ پلاؤ پکتا ہے ضرور کھانا کھا کر جائیے گا۔میں نے کہا۔کہ جو کچھ آپ نے کھلایا یہی بہت ہے ہمیں قادیان جانا ہے دیر نہیں کر سکتے۔انہوں نے میرے قادیان نہ جانے کے لئے بہت کچھ حیلہ انگیز باتیں کیں۔مگر میں نے ایک بھی نہ مانا اور کہا کہ جب اتنی دور آگئے ہیں تو بغیر قادیان دیکھے نہ جائیں گے۔ایک بات انہوں نے یہ بھی کسی کہ مرزا جو کچھ کہ تھا اب تو وہ بھی نہ رہا۔پھر آپ قادیان جاکر کیا کریں گے۔میں نے کہا کہ جہاں آگ ہوتی ہے آگ کے بجھ جانے پر بھی اس کے آثار باقی رہ جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آگ تھی۔الختصر بڑی کوشش کے بعد مولوی محمد حسین سے رخصت ہوا۔اور چلتے وقت اس سے کئی رسالے عاریتاً لے کر آیا اور کہہ دیا کہ ابھی تو میں قادیان جاتا ہوں لوٹتے وقت آپ کی کتابیں انشاء اللہ تعالی دے جاؤں گا۔وہاں سے اپنی فرودگاہ میں آکر کھانا کھایا۔پھر قادیان کی طرف روانہ ہوا اور عصر کے وقت وہاں پہنچ گیا۔عصر کی نماز کے قبل ہی خلیفہ اول حضرت مولینا نور الدین صاحب سے ملاقات کی۔اور دیکھا کہ وہ صحیح بخاری شریف کا درس دے رہے ہیں۔