جذبۃ الحق — Page 3
3 سر پر آچکا تھا اور اکثر علمائے محققین کا خیال بھی اسی طرف جھکا ہوا تھا۔چنانچہ حضرت مولانا محمد عبدالحی صاحب مرحوم و مغفور لکھنوی اپنی تالیف لطائف مستحسنہ میں تحریر فرماتے ہیں۔اقْتَرَبَ ظُهُورِ الْإِمَامِ الْمَهْدِى إِمَامٍ أَحْرِ الزَّمَانِ وَمَا أَدْر لَكُمْ لَعَلَّه يَظْهَرْ فِي هَذِ الْمِانَة L اور نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی تو اپنی تالیفات مثل حدیث الغاشیہ اور بیج الکرامہ وغیر ہم میں بہت ہی وضاحت اور صراحت کے ساتھ اپنا یہ گمان ظاہر کرتے ہیں پس اس تقریب سے بہت چھوٹے اور نا قابل لوگ بھی امام مہدی ہونے کا دعوی کر بیٹھے۔لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں زمانے کی دست برد سے نیست و نابود ہو گئے۔اور اس سے لوگوں کی طبیعت میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جو امام مہدی ہونے کا دعوی کرتا ہے جھوٹا ہوتا ہے۔اسی اثناء میں افواہی طور پر سننے میں آیا کہ پنجاب کے علاقہ گورداسپور میں ایک شخص نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے لیکن مجھے اس کی طرف چنداں توجہ دو وجہ سے نہ ہوئی۔اول وجہ یہ کہ امام مہدی ہونے کا دعوی کرنے والے اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔جیسا کہ تجربہ سے ظاہر ہو چکا ہے اور دوسری وجہ یہ کہ چونکہ وہ خبر مجھ کو منکرین و مخالفین کے ذریعہ محض بری طرح سے پہنچی تھی۔اس لئے اس خبر کی تحقیق کی طرف خاکسار کی توجہ مبذول نہ ہوئی۔اسی زمانہ میں اتفاقا منشی محمد دولت خاں صاحب وکیل مرحوم کے لئے ایک ڈبیہ مفرح عنبری کا منگانا پڑا۔پس میں نے ایک پوسٹ کارڈ وکیل صاحب کی طرف سے لاہور جناب حکیم محمد حسین صاحب قریشی کے پاس لکھ دیا۔حکیم صاحب نے مفرح عنبری کی تو ایک ڈبیہ بھیجی۔لیکن اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا رسالہ بھی جس کا نام تفسیر سورہ