جذبۃ الحق — Page 32
32 جو شخص امانت میں خیانت کرے اس کو بے ایمان یعنی کافر اور جو شخص اپنے قول و قرار کو توڑے گا اس کو بے دین یعنی کا فر کہنا پڑے گا۔حالانکہ محققین و شراح حدیث اس حدیث کے ایسے معنی نہیں کرتے۔چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے بھی حجتہ اللہ البالغہ میں ایسے معنی نہیں کئے بلکہ نفی کمال ایمان و نفی کمال دین کے معنی کئے ہیں۔پس اس کے مطابق اگر حدیث لا نبی بعدی کے بھی معنی نفی کمال نبوت کے کئے جاویں۔تب کچھ بھی اشکال باقی نہیں رہتا۔بلکہ بلا تکلف یہ سنے ہوتے ہیں کہ آنحضرت صلعم نے نہیں جو صاحب کتاب صاحب شریعت و فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی کان گا۔پس اگر آپ کے بعد کوئی نبی غیر صاحب ثبوت مستقلہ ہو نہیں تشریعی اور نقلی شریعت محمدیہ کے ماتحت ہو اور آنحضرت صلعم کے کمال اتباع سے ثبوت حاصل کرنے والا ہو تو اس کا امتناع اس حدیث سے کس طرح ثابت ہو سکتا ہے۔اور اگر پھر بھی آپ ضد کریں اور اس سے آنحضرت مسلم کے بعد نبی کے آنے کا امتاع مطلق ثابت کرنا چاہیں تو پہلے بے دین ہونے کا فتوی عنایت کریں۔تو پھر دیکھا جائے گا۔یہ سن کر مفتی صاحب جو اس باختہ ہو گئے۔اور وہاں سے اٹھ کرہا ہر مولانا شیلی صاحب کے پاس جابیٹھے اور جاتے وقت دبی زبان سے یہ بھی کہتے گئے۔کہ ایسا ہونے سے تو آپ سب جو کچھ جی میں آوے کہہ سکیں گے ؟ المختصر چونکہ مغرب کی نماز کا وقت بہت قریب تھا اور دونوں مولوی صاحبان بھی فرار کر چکے تھے۔ہم بھی وہاں سے اٹھ کر اور مولوی صاحبان مذکو رین کے پاس سے گذرتے ہوئے ان کو کچھ کلمات نصیحت آمیز بایں الفاظ کہتے چلے آئے کہ حضرات! آپ لوگ ہمہ تن دنیا کی طرف مائل ہیں اور دین کی طرف بالکل