جذبۃ الحق — Page 33
33 نظر نہیں کرتے۔جب فتویٰ لکھتے ہیں۔تو عنوان پر لکھتے ہیں۔چہ فرمایید علمائے دین و مفتیان شرع متین۔علمائے دین کیا ایسے ہی ہونے چاہئیں۔لوگوں کو خوش کرنے سے اللہ تعالیٰ ہر گز خوش نہ ہو گا۔دنیا کی یہ عزت و آبرو بالکل بے سود ہے اور دائی نہیں میرے یہ کلمات سن کر دونوں مولوی صاحبان میرا منہ لکھتے رہ گئے اور ہم رخصت ہو سرے دن میں خوب چلے آئے۔محل گیا۔مقصود یہ تھا کہ حضرت مولانا محمد عبد الحی صاحب مرحوم و مغفور کے داماد سے ملوں اور مولانا مرحوم کے گھر کا حال دریافت کروں لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ گھر میں نہیں ہیں اور کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔پس ان کی تلاش میں مولوی عبد الباری صاحب کے یہاں جا پہنچا۔مولوی عبد الباری صاحب نے اس دن جلاب کی دوا استعمال کی تھی۔پھر بھی ان سے کچھ باتیں ہوئیں اور وہ بھی میں نے اس غرض سے چھیڑا کہ تا انہیں معلوم ہو جائے۔فقط اس بات کی بناء پر کہ ان کو معلوم ہو کہ میں بھی حضرت مولانا محمد عبدالحی صاحب مرحوم و مغفور کے شاگردوں میں سے ہوں۔مولوی عبد الباری صاحب بات بات میں مجھے کہتے کہ مولوی صاحب آپ معقول آدمی ہیں۔حالانکہ میں نے ان سے کوئی معقولیت ظاہر نہیں کی تھی۔الغرض باتوں باتوں میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی بابت بھی درمیان میں بات آگئی۔مولوی عبد الباری صاحب کہنے لگے کہ میں قادیانیوں سے گفتگو کرتے وقت مسئلہ حیات د وفات مسیح سے گفتگو شروع نہیں کرتا بلکہ میری گفتگو مرزا صاحب کے دعوئی مہدویت پر کے دلائل سے شروع ہوتی ہے۔میں نے کہا کہ یہ تو عام لوگوں کا طریق ہے۔علمائے اہل تحقیق تو ہر گز ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کا فرض تو یہ ہے کہ مسئلہ حیات مسیح کو پہلے دلائل قونیہ سے ثابت کر دیں جس سے سب