جذبۃ الحق — Page 29
29 ہے یہ سن کر مفتی ٹوٹکی صاحب کسی قدر زہر خندی کے ساتھ باہستگی گویا ہوئے کہ قادیانی مذہب کے متعلق کیا پوچھیں گے۔ان کے اس سوال کو میں نے اجازت پر حمل کر کے کچھ پوچھنا شروع کیا۔چنانچہ سب سے پہلے میں نے کہا کہ جناب نے قادیانی مذہب کے رد میں کبھی کچھ لکھا ہے۔انہوں نے کہا۔" نہیں " میں نے پھر کہا کہ کیوں نہیں لکھا میں نے تو آپ کا دستخط مرزا صاحب کے مخالفین کے بعض بعض فتاویٰ تکفیر پر دیکھا ہے۔ٹونکی مولوی صاحب نے کہا کہ مجھے مرزا کے مذہب کی تردید لکھنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔مرزا صاحب کے خیالات کی تردید کرنے والے اور بہت سے لوگ ہیں۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے بہت کچھ لکھا ہے۔پہلے تو وہ مرزا صاحب کے مرید تھے پھر مخالف ہو گئے۔اس پر میں نے کہا۔میں نے آپ کا لکھا ہوا ایک رسالہ حرمت'، غراب پر دیکھا ہے اور یہ نہایت تعجب کی بات ہے کیونکہ کوا کون کھاتا ہے؟ نہ آپ کھاتے ہیں نہ میں کھاتا ہوں اور نہ کو کھانے والا کسی کو میں نے دیکھا ہے دیو بندی جو مسئلہ حلت غراب کے بانی مبانی ہیں وہ لوگ بھی نہیں کھاتے فقط ایک فرضی بات ہے کہ ضد سے اس پر اڑے ہوئے ہیں۔اس پر آپ کو رد لکھنے کی خوب فرصت ملی اور ادھر ہزاروں بلکہ لاکھوں آدمی آپ جیسے بزرگوں کے قاوی کے مطابق کا فر ہو رہے ہیں۔پھر بھی آپ کو رد لکھنے کی فرصت نہیں ملتی۔اس پر ٹونکی مولوی صاحب شرمندہ سے ہو گئے اور دیر تک سر نیچا گئے کچھ غور کرتے رہے اتنے میں مولانا شیلی صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ملازم کو حکم دیا کہ کمرے کی سب کھڑکیاں کھول دے۔اور ہماری طرف مخاطب ہو کر کہا۔آپ لوگ اچھی طرح باتیں کرلیں۔میں باہر جا کر بیٹھتا ہوں اور پھر ہا ہر جاکر ایک چارپائی پر جو بر آمدہ میں پڑی تھی بیٹھ گئے۔اور یوں کہنا چاہئے کہ گویا اپنے عوض ایک اور شکار کے کونے کے حرام ہونے پر